Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی نے غلطی سے عمر رسیدہ خاتون کو مجرم قرار دے دیا

امریکا کی اسٹیٹ ٹینیسی سے تعلق رکھنے والی 50  سالہ انجیلا لپس کو تقریباً چھ مہینے جیل میں گزارنے پڑے کیونکہ کمپیوٹر سسٹم نے انہیں غلطی سے مجرم قرار دے دیا تھا۔

گزشتہ برس انجیلا لپس اپنے گھر میں بچوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں کہ اچانک پولیس آئی اور انہیں اسلحہ کے زور پر گرفتار کر کے لے گئی۔

پانچ بچوں کی دادی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شمالی وسطی ٹینیسی میں گزارا ہے اور کبھی ہوائی جہاز کا سفر بھی نہیں کیا تاہم بدقسمتی سے فارگو نارتھ ڈکوٹا کی پولیس متعدد الزامات کے تحت ان کی گرفتاری کے لیے اپنے ساتھ ایک دستخط شدہ وارنٹ بھی لائی تھی جس میں چوری کی سنگین واردات اور ذاتی شناخت کی معلومات کا غیر مجاز استعمال شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ چیٹنگ اب ہوں گی مزید آسان؛ نیا اے آئی فیچر متعارف

 خیال رہے کہ پولیس نے اس فراڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر ایک اے آئی سسٹم کو استعمال کیا جس نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی عورت کا چہرہ ان سے ملتا جلتا ہے بس اسی بنیاد پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

تاہم ان کے وکیل نے کہا کہ اگر صرف کمپیوٹر کی پہچان ہی ثبوت ہو تو مزید تحقیق ضرورکرنی چاہیے تھی۔

تین مہینے جیل میں رکھنے کے بعد انہیں ہوائی جہاز سے نارتھ ڈکوٹا لے جایا گیا جہاں انہیں دوبارہ جیل میں ڈال دیا گیا۔

آخرکار 23 دسمبر کو ان کے وکیل کی جانب سے ثبوت دیا گیا کہ وہ اس جرم کے وقت ٹینیسی میں ہی موجود تھیں جو کہ جائے وقوعہ سے تقریباً 1200 میل دورہے کیس ختم کر دیا گیا۔

انجیلا کو کرسمس سے ایک دن پہلے رہا کر دیا گیا لیکن نہ کوئی معافی ملی اور نہ ہی واپس گھر جانے کا انتظام کیا گیا۔

اس مشکل وقت کی وجہ سے وہ اپنا گھر اور پالتو جانور بھی کھو بیٹھیں ہیں کیونکہ وہ ان کے بل ادا نہیں کر سکیں تاہم ان کے وکیل اس معاملے پر مقدمہ دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب انجیلا کا کہنا ہے کہ وہ بس خوش ہیں کہ یہ سب ختم ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version