Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصر کے قدیم شہر کی تہہ میں پراسرار ڈھانچہ دریافت

مصر کا یہ شہر تقریباً 6 ہزار سال پرانا ہے اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے شمال مغربی نیل ڈیلٹا میں ایک قدیم شہر کے کھنڈرات کے نیچے ایک پراسرار ڈھانچہ دریافت کیا ہے۔

مصر کا یہ شہر تقریباً 6 ہزار سال پرانا ہے اور مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا۔ قدیم مصری اسے ’’پیر واجیت‘‘ کہتے تھے کیونکہ یہ ان کی سانپ کی دیوی کا مقدس مقام تھا۔

یونانی دور میں اسے ’’بوتو‘‘ کہا گیا۔ آج اس جگہ کو عربی میں ’’تل الفراعین‘‘ (فرعونوں کی پہاڑی) کہا جاتا ہے۔

محققین نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس علاقے کی تہہ میں جھانک کر ایک عمارت کے آثار دریافت کیے ہیں۔ انہوں نے سیٹلائٹ ریڈار اور برقی مزاحمتی ٹوموگرافی (ای آر ٹی) کا استعمال کیا۔

یہ طریقہ کار اس طرح کام کرتا ہے کہ زمین میں بجلی کے کرنٹ بھیجے جاتے ہیں اور مزاحمت کی پیمائش کرکے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ نیچے کیا ہے۔

محققین نے 69 میٹر لمبی کیبل بچھا کر 24 الیکٹروڈز کے ذریعے 1,332 ریڈنگز لیں۔ انہیں زمین کے نیچے 3 سے 6 میٹر کی گہرائی میں مٹی کی اینٹوں سے بنا ایک ڈھانچہ ملا جو تقریباً 25 بائی 20 میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

بعد میں کی گئی کھدائی نے اس کی تصدیق کردی۔ یہ ڈھانچہ تقریباً 2,600 سال پرانا ہے اور مصر کے 26 ویں خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔

کھدائی کے دوران ماہرین کو اینٹوں کی دیواروں کے ساتھ کئی تعویذ اور دیگر اشیاء بھی ملیں۔ ان میں بندر، باز اور ایک بونے دیوتا کا مرکب والا عجیب بت بھی شامل تھا۔ دیگر تعویذ میں مصری دیوی دیوتاؤں جیسے آئیسیس، ہورس، تاورت اور واجیت کی شکلیں تھیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عمارت کوئی مذہبی مقام رہی ہوگی تاہم اس کے صحیح کردار کو سمجھنے کے لیے مزید کھدائی کی ضرورت ہے۔

محققین کے مطابق اس علاقے میں ایک اور مندر بھی مٹی کی موٹی تہہ کے نیچے دفن ہوسکتا ہے جسے مستقبل کی تحقیقات میں دریافت کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں