یہ دنیا کسی عجائب خانہ سے کم نہیں کھبی خواتین اوٹ پٹانگ اسٹائل اپناتی دکھائی دیتی ہیں تو کبھی مرد حضرات، ایسا ہی ایک عجیب و غریب بیوٹی ٹرینڈ مختلف ممالک میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے جس میں نوجوان مردانہ وجاہت میں اضافے کے لیے اپنی پلکوں کو مختصر کروا رہے ہیں۔
لمبی اور گھنی پلکیں عموماً خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور خواتین میں ان کی مقبولیت کے باعث مصنوعی پلکوں کی ایک باقاعدہ صنعت بھی موجود ہے، تاہم بعض نوجوان اور مرد حضرات اب لمبی پلکوں کو اپنی شخصیت کے لیے زیادہ زنانہ تصور کرتے ہوئے انہیں مختصر کروانے لگے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوان مردوں کی پلکیں کٹوانے یا تراشنے کی ویڈیوز سامنے آنا شروع ہوئی تھیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک عالمی رجحان کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اس رجحان کو بعض افراد ’لوکس میکسنگ‘ سے بھی جوڑ رہے ہیں، جس میں لوگ اپنی ظاہری شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق پلکیں کاٹنا یا بہت زیادہ چھوٹا کرنا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرد حضرات اپنی شریک حیات میں کن صفات کو پسند کرتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق پلکیں صرف خوبصورتی یا چہرے کی ظاہری شکل کا حصہ نہیں بلکہ آنکھوں کی حفاظت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پلکیں مٹی، گردوغبار، پسینے اور جلد کے مردہ خلیوں سمیت مختلف ذرات کو آنکھوں میں داخل ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آنکھوں کو بعض بیرونی عوامل، بشمول الٹرا وائلٹ شعاعوں، سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی معاون ہوتی ہیں۔
پلکوں کو بہت زیادہ مختصر کرنے کی صورت میں آنکھیں گردوغبار اور دیگر ذرات کے براہِ راست رابطے میں زیادہ آسکتی ہیں، جس سے خارش، جلن، تکلیف اور انفیکشن جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
اگرچہ تراشی گئی پلکیں وقت کے ساتھ دوبارہ اُگ جاتی ہیں، تاہم انہیں دوبارہ معمول کی لمبائی تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
پلکیں تراشنے کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس عمل کے دوران آنکھ کو براہِ راست نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آنکھ کے انتہائی قریب قینچی، ٹرمر یا دیگر تیز دھار آلات استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے معمولی سی غلطی بھی آنکھ کو شدید چوٹ پہنچا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبی پلکوں کو خواتین کی خوبصورتی سے جوڑنا بنیادی طور پر ایک ثقافتی تصور ہے، نہ کہ کوئی سائنسی حقیقت۔
ماہرین صحت اور بیوٹی ماہرین نے نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والے ہر ظاہری یا بیوٹی ٹرینڈ کو اپنانے سے پہلے اس کے ممکنہ صحت کے اثرات کو ضرور مدنظر رکھیں، کیونکہ چند لمحوں کے لیے ظاہری شکل بدلنے کی کوشش آنکھوں کی صحت کے لیے طویل مدتی مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔