سائنسدانوں نے تھائی لینڈ کے ایک جنگل میں پودوں کی ایک انتہائی منفرد نوع دریافت کی ہے، جو نہ صرف اپنی خوفناک اور عجیب و غریب شکل کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئی ہے بلکہ حیران کن طور پر سورج کی روشنی کے بغیر بھی زندہ رہتی ہے۔
اس نئے پودے کو اس کی غیر معمولی شکل اور زیرِ زمین پراسرار طرزِ زندگی کے باعث تھیسمیا ڈیمونا یعنی ’شیطانی پھول‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ پودا بظاہر کسی خوفناک فلم کا کردار محسوس ہوتا ہے۔ اس کا پھول تقریباً سیاہ رنگ کا ہے جبکہ اس پر سرخی مائل نارنجی حصے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے آنکھیں چمک رہی ہوں۔ پھول کے اوپر تین لمبے اور باریک، سینگ نما ابھار بھی موجود ہیں، جو اس کی عجیب شکل کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

زیادہ تر پودے سورج کی روشنی کے ذریعے اپنی خوراک تیار کرتے ہیں۔ ان کے اندر موجود سبز مادہ کلوروفل روشنی کی توانائی جذب کرتا ہے اور پودا فوٹو سنتھیسس کے عمل کے ذریعے اپنی خوراک بناتا ہے۔
لیکن ’شیطانی پھول‘ اس بنیادی اصول سے مختلف ہے۔ اس پودے میں کلوروفل ہی موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرکے اپنی خوراک تیار نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں: خشک ہونے کے بعد حیات پانے والا معجزاتی پودا
سائنسدانوں کے مطابق یہ پودا مٹی میں موجود فنگس کے ساتھ ایک خاص تعلق قائم کرکے کاربن اور دیگر ضروری غذائی اجزا حاصل کرتا ہے سادہ الفاظ میں یہ پودا سورج کی جانب رخ کرنے کے بجائے زمین کے اندر موجود فنگس کے نیٹ ورک سے غذائیت حاصل کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق تھیسمیا ڈیمونا اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ جنگل کی زمین پر گری ہوئی پتوں کی تہہ کے نیچے گزارتا ہے۔ یہ مختصر عرصے کے لیے زمین سے باہر آتا ہے، جب اسے پھول اور بعد ازاں پھل پیدا کرنا ہوتا ہے۔
پھول سمیت یہ پودا تقریباً 12.5 سینٹی میٹر تک بلند، اس کی جڑیں ہلکے بھورے رنگ کی اور بالوں سے ڈھکی ہوتی ہیں، جو دیکھنے میں مرجان کے ٹکڑوں جیسی محسوس ہوتی ہیں۔
اس کا تقریباً سیاہ پھول سرخی مائل نارنجی حصوں، شفاف نیلے اسٹیمنز اور گنبد نما ساخت کے اوپر نکلنے والے تین باریک ’سینگوں‘ پر مشتمل ہوتاہے۔
یہ پودا تھیسمیا نامی جینس سے تعلق رکھتا ہے، جس کی بعض انواع کو عام طور پر ’فیری لینٹرنس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سائنسدان اب تک اس جینس کی تقریباً 120 انواع شناخت کرچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ دنیا کے محفوظ اور نسبتاً زیادہ دیکھے جانے والے جنگلات میں بھی ایسی انواع چھپی ہوسکتی ہیں جنہیں سائنس ابھی تک دریافت نہیں کرسکی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی میں قدرتی ورثے کے حوالے سے شعور پیدا کرنا نہ صرف ایسے نایاب پودوں کے قدرتی مسکن کے تحفظ میں مدد دے سکتا ہے بلکہ پائیدار اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی ماحول دوست سیاحت کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔
’شیطانی پھول‘ کی یہ دریافت اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ کبھی کبھی سائنس کی نئی دریافتیں کسی دور دراز اور ناقابلِ رسائی مقام پر نہیں بلکہ ہمارے قدموں کے عین نیچے، گرے ہوئے پتوں کے درمیان چھپی ہوسکتی ہیں۔