بجلی صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف کے بعد اضافی بوجھ لاد دیا گیا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک ماہ کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 81 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی سربراہی میں بجلی صارفین پر اضافی چارج لگانے کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں نیپرا حکام نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز میں خرابی کے باعث سسٹم پر اضافی بوجھ پڑا، گرڈ اسٹیشنز اورولوڈنگ ہوئے جس پر متبادل اور مہنگے پلانٹس چلائے گئے۔
ممبر نیپرا نے کہا کہ تھر کی بجلی جو سستی ہے اسں کو کیوں نہیں لیا گیا؟ چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ایک بجلی آپ کو چار سے سات روپے میں مل رہی ہے تو مہنگی کیوں لی؟
دوران سماعت ممبر نیپرا نے کہا کہ ساؤتھ ریجن میں 106 ٹرانسمشن لائن کے ٹاور تباہ ہوئے، ایسی صورتحال پوری دنیا میں کسی اور ملک ہے تو بتائی جائیں۔
این ٹی ڈی سی حکام نے کہا کہ ہائیڈل کے ٹو اور دیگر سے بجلی لینا پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ صورتحال پر منحصر ہے کہ ہوا یا موسمی صورتحال کیسی ہے، کوئی بھی سسٹم چلتے ہوئے سو فیصد تک درست کام نہیں کر سکتا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہیں پہلے کبھی ایسی صورتحال نہیں۔
نیپرا حکام نے کہا کہ بائیس مئی کو این ٹی ڈی سی کو جرمانہ کیا جا چکا ہے، جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ تمام ذرائع کے ہونے کے باوجود قوم کا پیسہ ضائع کیا جارہا ہے۔
ممبر نیپرا نے مزید کہا کہ قانونی ٹیم نے یہ کیس تحقیقات کیلئے متعلقہ ایجنسی کو کیوں نہیں بھیجا؟ 2016 کے بعد جتنے ٹاور تباہ ہوئے اور جتنا بھی نقصان ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟
نیپرا نے ایک ماہ کیلئے فی یونٹ 1 روپے 81 پیسے اضافہ منظور کر لیا۔
بجلی صارفین پر 24 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا تاہم حتمی فیصلے بعد میں اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
