پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق عوام کیلئے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی چار بڑی قومی آئل کمپینیاں گوادر پورٹ پر 10 ارب ڈالر مالیت کے گرین فیلڈ ریفائنری پراجیکٹ کیلئے اشتراک کریں گی، اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے ہیڈ آفس میں منعقد ہوئی۔
قومی کمپنیاں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) مشترکہ سرمایہ کاری حکمت عملی کے ذریعے اشتراک کریں گی جبکہ پراجیکٹ میں معروف عالمی آئل اینڈ گیس کمپنیوں کی طرف سے ایکویٹی کی بنیاد پر نمایاں سرمایہ کاری کی جائے گی۔
پراجیکٹ کے ذریعے پاکستان میں کم سے کم 300,000 بی پی ڈی خام تیل پراسسنگ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ مربوط ریفائنری پیٹروکیمیکل کمپلکس اور پیٹروکیمیکل فیسیلیٹی قائم کی جائے گی۔
مربوط ریفائنری پیٹروکیمیکل کمپلکس متعدد حصوں پر مشتمل ہوگا جس میں میرین انفراسٹرکچر، پیٹرو کیمیکل کمپلکس، خام آئل اور ریفائن یوٹیلیٹیز کیلئے اسٹوریجز، پائپ لائن کنکٹی ویٹی وغیرہ شامل ہے۔
سیکرٹری پٹرولیم کیپٹن (ر) محمد محمود نے اپنے افتتاحی خطاب میں گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے نمایاں نکات کو واضح کرتے ہوئے پیٹرولیم سیکٹر کی ترقی کیلئے پیٹرولیم ڈویژن کے عزم کو اجاگر کیا۔
وزیر پٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ معاہدے کے اتنے فوائد ہیں کہ بیان نہیں کرسکتا، اپنے ملک میں ریفائنری سے فی بیرل 20 ڈالر بچا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل اور گیس کے نئے کنویں دریافت ہوئے ہیں، تیل و گیس سیکٹر میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی گنوا دیں، پراجیکٹ سے معاشی ترقی، غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت، انرجی سیکیورٹی، روزگار کے مواقع اور سماجی بہتری کے تناظر میں قومی معیشت کو فوائد حاصل ہوں گے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
