ملک بھر میں بجلی کے بھاری بلز اور ٹیکسز کے خلاف تاجر تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے علاوہ ملک کے بیشتر چھوٹے بڑے شہروں میں مہنگی بجلی کے خلاف تاجروں کی جانب سے مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جس میں حکومت سے بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکس اور بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت کو کم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سرگودھا میں بجلی کے بلوں میں ٹیکسز اور اضافی یونٹس کے ستائے عوام اور تاجر سڑکوں پر آگئے اور بجلی کے بل جلا ڈالے۔
تاجروں نے بجلی کے بلوں میں عائد ظالمانہ ٹیکسز اور قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ہمارے کاروبار بند ہوچکے ہیں۔ 14 اگست کو آزادی کا جشن منانے نکلے تھے۔ اب بھی گھروں سے نکلو ورنہ یہ ہمیں زندہ درگور کر دینگے۔
تاجروںکا کہنا ہے کہ اشرافیہ اس ملک کو لوٹ کر کھا گئی، سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا، آٹا مہنگا، چینی مہنگی، بجلی مہنگی، کوئی چیز سستی ہے تو بتائیں۔
تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ کسی صورت بجلی کے بل جمع نہیں کرائیں گے۔
دوسری جانب کوئٹہ میں شہری بجلی کے بل دیکھ کر بلبلا اٹھے اور کہا کہ پہلے سے دُگنے بل آ رہے ہیں، گزارہ مشکل ہوگیا ہے۔
راولپنڈی میں بھی بجلی کی قیمت کم کرنے کا مطالبہ لیے شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ سرگودھا میں بھی بجلی کے اضافی بلوں کے خلاف شہریوں کا احتجاج جاری ہے، تاہم بل جلا کر سڑک بلاک کر دی ہے۔
آزاد کشمیر میں بھی تاجروں کے مہنگی بجلی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ باغ میں انجمن تاجران، عوامی ایکشن کمیٹی اور سول سوسائٹی کی جانب سے بجلی کے بلز میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران بجلی بلز نذر آتش کر کے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
عوام کا حکومت اور محکمہ واپڈا کے خلاف احتجاج جاری ہے جس میں تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی ملک کے دیگر شہروں لاہور، اٹک، پشاور، کوئٹہ، تونسہ، حیدر آباد، نواب شاہ، رحیم یار خان اور ملتان میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
