اسلام آباد: عملی اقدامات کے باوجود مہنگائی کا پارہ کم نہ ہو سکا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0 اعشاریہ 11 فیصد کا اضافہ ہوا جس کے بعد مہنگائی کی مجموعی شرح 37 اعشاریہ 07 فیصد تک پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 19 اشیاء ضروریہ کے دام بڑھ گئے جبکہ 16 میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران چینی کی اوسطاً قیمت میں 1 روپے فی کلو اور ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے کا اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ ایک ہفتے کے دوران پیاز، انڈے، لہسن، آلو کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں اور جلانے کی لکڑی، تازہ دودھ، دہی، مٹن خشک دودھ کے دام بھی بڑھ گئے۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ایل پی جی کا گھریلو سلینڈر 98 روپے مہنگا ہوا جبکہ ایل پی جی کے گھریلو سلینڈر کی قیمت 3232 روپے تک پہنچ گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں ہفتے پیٹرولیم مصنوعات، چکن، دال مسور، دال چنا، دال ماش کی قیمتوں میں کمی آئی جبکہ آٹا اور سرسوں کا تیل گھی بھی سستا ہوگیا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ ماہ مہنگائی میں 2 فیصد اضافے کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح 31.44 فیصد تک جا پہنچی تھی۔
ستمبر کے مہینے میں شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 1.67 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیاز 39.3 اور دال مسور 19.8،سبزیاں 11.7 ، چینی 10.8 ، دال ماش 9.46 اور لوبیا 7.1 فیصد مہنگا ہوا۔
ستمبر 2022 سے ستمبر 2023 تک بجلی کی قیمت میں 163.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چینی 93.4، آٹا 87.5 اور چائے 83.6 فیصد مہنگی ہوئی تھی۔
3 اکتوبر 2023 کو عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال عوام کو مہنگائی میں بڑا ریلیف نہیں مل سکتا۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں بجٹ خسارہ رواں مالی اور آئندہ مالی بلند سطح پر رہے گا۔ مالی سال 2024 میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 26.5 فیصد رہے گی جبکہ مالی سال 2023 میں پاکستان میں مہنگائی کے بڑھنے کی شرح 29.2 فیصد رہی، توقع ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان میں مہنگائی کی بڑھنے کی شرح 17 فیصد پر آجائے۔
ناجے بن حسین نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان توانائی کے نقصانات کم کرنے میں کوشاں ہے، قلیل مدت میں پاکستان کی توانائی کی پیداواری لاگت یکایک کم نہیں کرسکتا۔ توانائی کے نقصانات میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، عالمی توانائی کی اصلاحات کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
