نگران حکومت نے اپنے دور میں لیے گئے قرضوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
قرضوں کی تفصیلات سے متعلق وزارت خزانہ کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق نگران حکومت کے دور میں قرضوں میں کم اضافہ ہوا، زیادہ تر قرضے ماضی کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے لیے گئے۔
اعلامیہ کے مطابق نگران حکومت نے شارٹ ٹرم ٹریژری بلز کی مد میں 1600 ارب روپے ادا کیے، گزشتہ دور حکومت میں ٹریژری بلز کی شکل میں 3307 ارب روپے قرضہ لیا گیا تھا۔
وزارت خزانہ کے مطابق نگران دور میں قرضوں کی ادائیگی کے بعد نیٹ حجم 1604 ارب روپے رہا، نگران حکومت نے مقامی قرضوں کو طویل مدتی ڈیبٹ سیکیوریز میں تبدیل کیا۔
مقامی قرضوں کی واپسی کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھ کر 3 سال ہوگئی، جون 2024 تک قرضوں کی میچورٹی کی مدت مزید بڑھ کر 3.1 سال ہو جائے گی۔
اعلامیہ کے مطابق مجموعی قرضوں میں بیرونی قرض کا حجم 38.3 فیصد سے کم ہو کر 36.7 فیصد پر آگیا، نگران حکومت نے کمرشل بینکوں یا انٹرنیشل کیپٹل مارکیٹ سے کوئی مہنگا قرضہ نہیں لیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ دور میں 8.4 ارب ڈالر، نگران دور میں 3.9 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے گئے، گزشتہ دور میں قرضوں کی واپسی کے بعد بیرونی قرض بڑھنے کا نیٹ حجم تین ارب ڈالر رہا، نگران دور میں بیرونی قرضوں کا نیٹ حجم 0.3 ارب ڈالر رہا۔
