حکومت نے جائیداد کی خریدوفروخت کرنے والوں کیلئے بڑا اعلان کر دیا ہے۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق پلاٹس کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے ٹیکس بڑھایا جائے گا، اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دستاویزی بنانے کے لیے کیش لین دین کی بجائے بینکنگ چینل استعمال کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی کٹنگ، لینڈ پرچیزنگ سمیت تمام ریکارڈ کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکسیشن پر ہم آہنگی کی رپورٹ آئی ایم ایف کو دی جائے گی، اور پراپرٹی ایجنٹس کا ڈیٹا، پلاٹس کی خرید و فروخت کو ایف بی آر میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی اَن ڈاکیومینٹڈ ٹرانزکشنز ختم کرنے کے لیے آئندہ بجٹ میں اقدامات ہوں گے، آئندہ وفاقی بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر میں فائلز کی لین دین پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز جلد تیار کی جائیں گی۔
پلاٹس کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کے لیے ٹیکسز کی شرح مزید بڑھائی جائے گی، فی الوقت 7 فیصد وِد ہولڈنگ اور 4 فیصد گین ٹیکس عائد ہے، تاہم ہاؤسنگ سوسائٹیز کی فائلز کی خرید و فروخت پر ٹیکس میکنزم نہ ہونے کے باعث ٹیکس چوری ہو رہا ہے۔
