اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل درست قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا فیصلہ پانچ دو کے تناسب سے سنایا، جسٹس امین الدین خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
فیصلے مطابق سپریم کورٹ نے وزارت دفاع اور دیگر اپیلیں منظور کرلیں اور پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کر دیں۔
فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کیلئے معاملہ حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت 45 دن میں اپیل کا حق دینے کے حوالے سے قانون سازی کرے، ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے کیلئے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں۔
مزید پڑھیں؛ سویلنز کا ایسا ٹرائل نہیں کرنے دیا جاسکتا جو خلاف آئین ہو، چیف جسٹس
اکثریتی فیصلے مطابق 9 مئی کو 39 ملٹری املاک کو نشانہ بنایا گیا، کورکمانڈرز ہاوس لاہور کے گھر پر حملہ کیا گیا، احتجاج کا آئینی حق لامحدود نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ نو مئی کو آرمی ہیڈکوارٹر پر بھی حملہ کیا گیا، احتجاج کے آئینی حق کی قانون حدود و قیود ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی نوٹ سناتے ہوئے کہا کہ سویلنز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا، فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ تمام افراد بری کیے جاتے ہیں، فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہونے والے تمام مقدمات متعلقہ سول عدالتوں کو منتقل کیے جائیں۔
عدالت نے بتایا ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
