ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی بوتل میں موجود پانی میں آپ کی توقع سے بھی سو گنا زیادہ خردبینی پلاسٹک کے ذرات موجود ہوسکتے ہیں۔
یہ تشویش ناک خبر حال ہی میں ایک ایسے مٹیریل کے لیے آئی ہے جس کے لیے ماضی میں بھی بہت سی تحقیقات کی جاچکی ہیں۔ پوری دنیا میں لوگوں کی بڑی تعداد پانی سے بھری پلاسٹک کی بوتلوں کو خریدنا اور ان بوتلوں کے اندر پانی پینا پسند کرتی ہے۔ ان بوتلوں میں پلاسٹک کے ذرات کے حوالے ماہرین نے پہلے جو اندازہ لگایا تھا کہ ان بوتلوں کی پیکنگ کے دوران جب پانی ڈالا جاتا ہے اس دوران پلاسٹک کے خرد بینی ذرات کم ہوتے ہیں لیکن حالیہ تحقیق کے مطابق ان پلاسٹک کے ذرات کی مقدار کئی سو گنا زائد موجود ہوتی ہے اور یہ ایک تشویش ناک بات بھی ہے۔
پروسیڈینگ آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسزنامی تحقیقی جرنل کی حالیہ اشاعت میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی میں لگائے جانے والے اندازے سے کہیں بڑھ کر پلاسٹک کی پاکی بوتل میں مائیکرو پلاسٹک موجود ہوتے ہییں۔ہوا ہے کہ پچھلے کو ہم انے اندازہ لگایا تھا اس سے کہیں زیادہ پانی کے اندر پلاسٹک والی بوتل کے پانی کے اندر اس سے کہیں زیادہ پلاسٹک کی مقدار موجود ہوسکتی ہے ایک معلوم اندازہ یہ ہے کہ پانی کی ایک لیٹر والی پلاسٹک کی بوتل میں دو لاکھ چالیس ہزار کے لگ بھگ ایسے پلاسٹک کے ذرات موجود ہوسکتے ہیں جنہیں ذرا سا غور کیا جائے تو آسانی سے شناخت کیا جاسکتا ہے یہاں شناخت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ای سادہ خردبین سے پلاسٹک کے یہ ذرات نظر آسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پلاسٹک کے ذرات پراب تک زیادہ سائنسی تحقیقات نہیں کی گئی لیکن اب ماہرین اس پر تحقیق کررہے ہیں یہاں تک کہ خون کے اندر بھی پلاسٹک کے ذرات غذا کے تحت پہنچ رہے ہیں اور کسی بی قسم کی ممکنہ پریشانی یا بیماری کہ وجہ بھی بن سکتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے اندھادھند استعمال نے نہ صرف زمین بلکہ سمندروں، دریاؤں، ندی نالوں، اور فضا کو بھی آلودہ کردیا ہے یہاں تک کہ پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات جنہیں مائیکرو پلاسٹک کہاجاتا ہے وہ فضا کے اندر ہواکے دوش کے اوپر ایک علاقے دوسرے علاقے پہنچ چکے ہیں اور سمندر کی گہرائیوں کی اندر بھی پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں۔ یہاں تک کہ بلندو بالا برفیلی پہاڑوں پر بھی ان کے ذرات پائے گئے ہیں اور ساتھ ہی سمندری حیات اورنازک جانور ان سے شدید متاثر ہورہے ہیں۔
2018 میں سائنسدانوں نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک لیٹر پلاسٹک کو بوتل میں اگر پانی ہو تو اس میں دو سو سے چار سو کے قریب پانی کے اندرپلاسٹک کے خردبینی ذرات ہو سکتے ہیں لیکن اب اندازہ ہوا ہے کہ ان کی مقداراس سے کئی سو گنا زیادہ ہے یعنی دولاکھ چالیس ہزار سے بھی زائد ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کے مضر اثرات پر ابھی مزید تحقیق کرنا باقی ہے لیکن یہ ایک بہت خطرناک رجحان ہے انہوں نے زور دیا ہے کہ دنیا بھرمیں پلاسٹک کی بوتل چاہے وہ پانی کی ہو یا سافٹ ڈرنک کی ان کو کنٹرول کیا جانے چاہئےاورپابندی ہونی چاہئے اسی طرح عوام الناس سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پلاسٹک کی بوتلوں میں بند پانی نہ خریدیں۔