کراچی: سندھ میں 19 سالہ نوجوان میں ایم پاکس کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد رواں سال صوبے میں اس بیماری کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 41 ہوگئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق نوجوان کو جسم پر دانے نکلنے کے بعد جمعرات کو کراچی کے سندھ متعدی امراض اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مزید طبی معائنہ کیا۔
حکام نے بتایا کہ نوجوان کے جسم پر دانوں کی شکایت کے بعد اس کے نمونے حاصل کرکے تشخیصی مرکز بھیجے گئے، جہاں جانچ کے بعد ایم پاکس کی تصدیق ہوئی۔
اس تازہ کیس کے بعد سندھ میں رواں سال ایم پاکس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں ایم پاکس کا پہلا تصدیق شدہ کیس اپریل 2023 میں سامنے آیا تھا، جب سعودی عرب سے آنے والے ایک مسافر میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت نے اگست 2024 میں کئی ممالک میں کیسز بڑھنے کے باعث ایم پاکس کو بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دیا تھا۔
ایم پاکس ایک وائرسی بیماری ہے جو متاثرہ شخص سے قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتی ہے جب کہ آلودہ بستر، کپڑے اور سوئیاں بھی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس بیماری کی ابتدائی علامات میں بخار، سردی لگنا، تھکن، سر درد اور پٹھوں میں کمزوری شامل ہیں۔ بعد ازاں جسم پر تکلیف دہ یا خارش والے دانے نمودار ہوسکتے ہیں جو وقت کے ساتھ خشک ہوکر ختم ہوجاتے ہیں۔
شیر خوار بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بیماری کی شدت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
