کینیڈا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک شریکِ حیات کی خراب نیند دوسرے شریکِ حیات کی غذائی عادات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔
کینیڈا کی کونکورڈیا جامعہ کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں ایک ساتھ رہنے والے 204 جوڑوں کا تین ماہ تک جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے دوران دونوں شریکِ حیات سے نیند اور غذا سے متعلق سوالنامے مکمل کروائے گئے جب کہ پہلے 14 دن روزانہ کی بنیاد پر صحت بخش غذا کھانے کی کوششوں کا اندراج بھی کرایا گیا۔
محققین کے مطابق خراب نیند لینے والے افراد نے صحت بخش غذا برقرار رکھنے کے لیے کم کوشش کرنے اور اپنی غذائی عادات بہتر رکھنے کی صلاحیت پر کم اعتماد کا اظہار کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے افراد کے شریکِ حیات نے بھی صحت بخش غذا برقرار رکھنے کے حوالے سے اسی طرح کی مشکلات اور کم اعتماد کی نشاندہی کی، چاہے ان کی اپنی نیند بہتر ہی کیوں نہ ہو۔
تحقیق کے مطابق جوڑوں کے ایک ساتھ کھانے کی وجہ سے ایک فرد کے غیر صحت بخش غذائی انتخاب کا اثر دوسرے فرد کی خوراک پر بھی پڑسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ خراب نیند لینے والا شریکِ حیات زیادہ لذیذ اور زیادہ حراروں والی غذائیں گھر میں لانے یا کھانے کا باعث بن سکتا ہے جن میں بسکٹ، نمکو، چاکلیٹ اور مٹھائیاں شامل ہیں۔
تحقیق میں شریک افراد کی اوسط عمر 42 سال تھی جب کہ ہر جوڑے میں کم از کم ایک فرد کا وزن معمول سے زیادہ تھا اور وہ اپنی غذا یا جسمانی سرگرمی بہتر بنانے کی کوشش کررہا تھا۔
تحقیق کے دوران مجموعی طور پر شرکا کی غذائی کیفیت میں معمولی بہتری دیکھی گئی تاہم نیند کے معیار میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔
خواتین نے مردوں کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش غذا اور اپنی غذائی عادات بہتر بنانے کے لیے زیادہ کوشش کی۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں نیند اور غذا کا زیادہ درست جائزہ لینے کے لیے گھر میں دستیاب خوراک، کھانے کی منصوبہ بندی اور شریکِ حیات کے باہمی تعاون جیسے عوامل کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
