صبح بیدار ہونے پر لوگوں کی بڑی تعداد ایسے مشروب کا انتخاب کرتی ہے جو سستی کو بھگانے کے ساتھ انہیں چاک و چوبند بھی کر دے یہی وجہ ہے کہ دن کے آغاز پر کیفین سے بھرپور چائے یا کافی ہی استعمال کی جاتی ہے تاہم اس حوالے اب محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
صبح خالی پیٹ بلیک کافی پینا بعض افراد میں بے چینی، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ کی علامات کو بڑھا سکتا ہے، طبی ماہرین نے ایسے افراد کو احتیاط کا مشورہ دیا ہے جو پہلے ہی اضطراب یا تناؤ کا سامنا کر رہے ہوں۔
ماہرین کے مطابق کافی میں موجود کیفین خالی معدے کی صورت میں نسبتاً تیزی سے جذب ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اعصابی نظام زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں بعض افراد کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، ہاتھوں میں کپکپی، بے چینی یا گھبراہٹ جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کافی کے کتنے کپ دل کے لیے محفوظ؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمون کورٹیسول کی سطح قدرتی طور پر بلند ہوتی ہے۔ ایسے میں کیفین کا استعمال بعض حساس افراد میں بے چینی کی علامات کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق خالی پیٹ کیفین کے اثرات ہر فرد میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم کھانے کے ساتھ یا ناشتے کے بعد کافی پینے سے کیفین کے جذب ہونے کی رفتار نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بے چینی سے بچنے کے لیے ہر شخص کو کافی مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر صبح کے وقت کافی پینے کی عادت ہو تو اسے ناشتے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ بھوک نہ ہونے کی صورت میں کافی سے پہلے ہلکی غذا لینا بھی ایک مناسب احتیاط ہو سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے بالخصوص ان افراد کو اپنے کیفین کے استعمال پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے جو پہلے سے بے چینی یا ذہنی دباؤ کی علامات محسوس کرتے ہیں۔
