امریکا کی معمر ترین اور دنیا کی دوسری معمر ترین خاتون نومی وائٹ ہیڈ نے اپنی 116 ویں سالگرہ منالی جب کہ سائنسی تحقیقات کے مطابق انسان کی عمر درازی میں موروثی خصوصیات کا کردار پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔
نومی وائٹ ہیڈ امریکا میں 1910 میں پیدا ہونے والی آخری زندہ شخصیت ہیں اور ریکارڈ کے مطابق دنیا کی ان چند افراد میں شامل ہیں جو 116 سال کی عمر تک پہنچے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انسان کی عمر پر موروثی خصوصیات کے اثرات کے حوالے سے نئی تحقیق نے سابق اندازوں میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔
سائنسی تحقیق میں اسکینڈینیویا کے جڑواں افراد سے متعلق ایک صدی سے زائد عرصے کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ بعض حالات میں عمر درازی میں موروثی خصوصیات کا کردار تقریباً نصف تک ہوسکتا ہے۔
اس سے قبل خیال کیا جاتا تھا کہ انسان کی عمر میں پائے جانے والے فرق کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ موروثی عوامل سے متعلق ہوتا ہے تاہم نئی تحقیق میں حادثات، بعض بیماریوں، تشدد اور دیگر بیرونی وجوہات سے ہونے والی اموات کو الگ کرکے موروثی اثرات زیادہ نمایاں پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ موروثی خصوصیات کا کردار بھی زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے، خصوصاً ان افراد میں جو 90، 100 یا اس سے بھی زیادہ عمر تک پہنچتے ہیں۔
گزشتہ برس ہونے والی ایک تحقیق میں 110 سال سے زائد عمر پانے والے افراد میں یادداشت سے متعلق بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی بعض موروثی خصوصیات کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
دنیا کی معمر ترین افراد میں شامل ماریا برانیاس نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں تحقیق کے لیے خون، لعاب، پیشاب اور دیگر نمونے فراہم کیے تھے۔ تحقیق میں ان کے دل کی صحت بہتر اور جسم میں سوزش کی سطح انتہائی کم پائی گئی۔
ماہرین کے مطابق ان کے جسم کے مدافعتی نظام اور آنتوں میں موجود جراثیم کی کیفیت بھی ان کی عمر سے کئی دہائیاں کم افراد سے مشابہ تھی۔
تاہم سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ موروثی خصوصیات طویل عمر کی ضمانت نہیں دیتیں۔ طرز زندگی، خوراک، جسمانی سرگرمی اور ماحول بھی انسانی صحت اور عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نومی وائٹ ہیڈ کے والد نے بھی 90 برس سے زائد عمر پائی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ عمر درازی سے متعلق بعض موروثی خصوصیات انہیں والد سے ملی ہوں تاہم ہر نسل میں موروثی خصوصیات کی تقسیم مختلف ہوتی ہے۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ 100 سال یا اس سے زیادہ عمر پانے والے افراد کی اولاد میں بلند فشار خون، دل کے امراض اور موت کا خطرہ نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔
