بہتر صحت کے لیے متوازن غذا کے ساتھ رات کی پرسکون نیند نہایت ضروری ہے یہ ذہنی کارکردگی اور روزمرہ کے معمولات کی ادائیگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کی جانے والی متعدد تحقیق میں مناسب نیند کو صحت مند زندگی کے لیے بنیادی جز قرار دیا گیا ہے نیند کی کمی یا زیادتی کے جسم اور ذہن پر مختلف اثرات کرسکتی ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ عموماً انسان کی نیند کی ضروریات اور سونے کے معمولات میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ تاہم نیند کے حوالے سے کئی ایسے دلچسپ حقائق ہیں جن سے شاید بہت سے لوگ واقف نہیں۔
بین الاقوامی ادارے نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کی جانب سے بیان کیے گئے نیند سے متعلق چند دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں:
ورزش نیند کے لیے اچھی، مگر وقت اہم ہے
معمول کے مطابق ورزش کرنا جسم کو بہتر اور گہری نیند کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم سونے سے عین قبل سخت ورزش یا کھیل کی سرگرمی جسم اور دماغ کو متحرک رکھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نیند آنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
تنہا افراد کو نیند کے مسائل زیادہ ہوسکتے ہیں
اعداد و شمار کے مطابق طلاق یافتہ افراد یا شریکِ حیات کی وفات کے بعد تنہا زندگی گزارنے والے افراد میں نیند کے مسائل اور بے خوابی کی شکایات نسبتاً زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی جگہ پر نیند کیوں نہیں آتی؟ حیران کن وجہ سامنے آگئی
کیا جانور بھی خواب دیکھتے ہیں؟
انسانوں کی اکثریت نیند کے دوران خواب دیکھتی ہے، تاہم جانوروں کے خواب دیکھنے کے بارے میں سائنس دانوں کے درمیان اب بھی تحقیق جاری ہے۔ بعض سائنسی شواہد جانوروں میں خواب جیسی دماغی سرگرمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن اس کی نوعیت انسانوں کے خوابوں جیسی ہے یا نہیں، یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔
زیادہ بلندی پر نیند متاثر ہوسکتی ہے
زیادہ بلندی والے علاقوں میں رہائش اختیار کرنے سے بعض افراد کو نیند کے دوران بے چینی یا اضطراب کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جسم کو نئی بلندی اور کم آکسیجن والے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
نیند کے دوران دماغ معلومات پر کام کرتا رہتا ہے
یہ بات دلچسپ ہے کہ نیند صرف آرام کا نام نہیں۔ سونے کے دوران دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو ترتیب دینے، یادداشت کو مستحکم کرنے اور سیکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے امتحان کی تیاری میں مناسب نیند بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔
مناسب نیند ذہنی کارکردگی بہتر بناتی ہے
مطلوبہ مقدار میں نیند پوری کرنے سے توجہ، یادداشت، فیصلہ سازی اور دیگر ادراکی صلاحیتوں کو بہتر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ نیند کے دوران دماغ یادداشت اور سیکھنے سے متعلق کئی اہم عمل مکمل کرتا ہے۔
شفٹوں میں کام کرنے والوں کی نیند متاثر ہوسکتی ہے
دن اور رات کے اوقات میں مسلسل تبدیلی کے ساتھ کام کرنے والے افراد میں جسمانی گھڑی یا سرکیڈین ردھم متاثر ہوسکتا ہے۔ طویل عرصے تک بے قاعدہ شفٹوں میں کام کرنا نیند کے مسائل کے ساتھ ساتھ بعض دائمی بیماریوں، جن میں امراضِ قلب اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل شامل ہیں کے خطرے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
نیند محض تھکن دور کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ جسم اور دماغ کی بحالی کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ بہتر صحت اور ذہنی کارکردگی کے لیے مناسب دورانیے کی باقاعدہ اور پُرسکون نیند کو روزمرہ زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
