دانتوں کی صحت سے جڑی ہے آپ کی مجموعی صحت، یہی وجہ ہے کہ ماہرین دانتوں کی صحت و صفائی کا خاص خیال رکھنے پر زور دیتے ہیں اس کے باوجود روزانہ دانت صاف کرنے کے باوجود بعض افراد کے دانت کمزور ہو کر ٹوٹنے یا گرنے لگتے ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ دانتوں کا گرنا ایک قدرتی عمل ہے تاہم ماہرین کے مطابق مناسب دیکھ بھال اور صحت مند عادات اپنا کر قدرتی دانتوں کو زندگی بھر محفوظ رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دانتوں کا گرنا اکثر طویل عرصے تک جاری رہنے والے مسائل اور دانتوں کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دانتوں سے گاجر پر فن پارے تراشنے والی انوکھی چینی فنکار
دانتوں کے ٹوٹنے اور گرنے کی دو بڑی وجوہات
مسوڑھوں کی بیماری: مسوڑھوں کی سوزش ابتدا میں معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن بروقت علاج نہ ہونے پر یہ سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ دانتوں پر پلاک جمع ہونے سے شروع ہونے والی یہ بیماری مسوڑھوں اور دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دانت ہلنے اور گرنے لگتے ہیں۔
دانتوں میں کیڑا لگنا: میٹھی اشیا کا زیادہ استعمال، منہ کی ناقص صفائی اور دانتوں پر پلاک جمع ہونے سے کیویٹیز پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ خرابی دانت کے اندرونی حصے تک پہنچ کر شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے، حتیٰ کہ دانت ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کو لاحق خطرات
ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ بعض عوامل دانتوں کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
منہ کا خشک رہنا: بعض ادویات، خصوصاً بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، تھوک کی مقدار کم کر سکتی ہیں۔ اس سے دانتوں میں کیڑا لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مدافعتی نظام اور ذیابیطس: ذیابیطس کے مریضوں میں مسوڑھوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ خون میں شوگر کی ناقص سطح انفیکشن پر قابو پانے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
دانتوں کی گھساوٹ: سخت چیزیں چبانے، دانت پیسنے اور دیگر وجوہات سے دانتوں کی حفاظتی تہہ متاثر ہو سکتی ہے، جس سے دانت ٹوٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
دانتوں کو مضبوط رکھنے کے لیے کیا کریں؟
برش کرنے کا درست طریقہ: دن میں دو مرتبہ فلورائیڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے نرم برش کے ذریعے دانت صاف کریں۔ برش کو مسوڑھوں کے ساتھ تقریباً 45 ڈگری کے زاویے پر رکھ کر نرمی سے حرکت دیں تاکہ دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچائے بغیر صفائی ہو سکے۔
زبان کی صفائی: زبان پر جمع ہونے والے بیکٹیریا سانس میں بدبو پیدا کر سکتے ہیں۔ زبان کو روزانہ نرمی سے ٹنگ کلینر یا برش کی مدد سے صاف کرنا مفید ہے۔
پانی کا مناسب استعمال: مناسب مقدار میں پانی پینے سے منہ میں نمی برقرار رکھنے اور خوراک کے ذرات صاف کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پانی تھوک کی کمی کا مکمل متبادل نہیں، لیکن منہ کی صحت کے لیے اہم ہے۔
وٹامن سی اور کیلشیم کا استعمال: وٹامن سی کے لیے لیموں، مالٹا اور دیگر پھل جبکہ کیلشیم کے لیے دودھ، دہی اور دوسری غذائیت سے بھرپور اشیا استعمال کریں۔ کیلشیم دانتوں اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔
دانتوں کا باقاعدہ معائنہ: دانتوں کے ڈاکٹر سے باقاعدگی سے معائنہ کروائیں۔ ہر چھ ماہ بعد معائنہ ایک عمومی رہنمائی ہے، تاہم بعض افراد کو ان کی زبانی صحت کے مطابق زیادہ یا کم وقفے سے معائنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
دانتوں کی صحت اور مجموعی صحت کا تعلق
مسوڑھوں کی بیماری کا تعلق ذیابیطس اور دل کی بعض بیماریوں سمیت متعدد صحت کے مسائل سے دیکھا گیا ہے۔ تاہم اس تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ مسوڑھوں کے جراثیم لازماً دل کی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دانتوں کی حفاظت کے لیے صرف روزانہ برش کرنا کافی نہیں، بلکہ درست طریقے سے صفائی، دانتوں کے درمیان فلاس کا استعمال، متوازن غذا اور بروقت علاج بھی ضروری ہیں۔
عمر بڑھنے کے باوجود قدرتی دانتوں کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اگر دانت ہلنے لگیں، بار بار ٹوٹیں یا مسوڑھوں سے خون آئے تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ڈینٹسٹ سے رجوع کریں۔
