سان فرانسسکو کے ایک ٹیکنالوجی اسٹارٹ اَپ نے ملازمت کا ایک انوکھا اشتہار جاری کیا ہے جس میں ایسے افراد کو فی گھنٹہ 20 ڈالر دینے کی پیشکش کی گئی جو چار سے چھ گھنٹے تک ان کے روبوٹ کتوں کو سیر کرانے کے لیے تیار ہوں۔
کمپنی ڈائمینشنل کی جانب سے فیس بک کے گروپ بے ایریا جابز میں شائع کیے گئے اشتہار میں بتایا گیا کہ روبوٹ کتوں کو عوامی مقامات پر سیر کرانے کے لیے افراد درکار ہیں، منتخب افراد کو 4 سے 6 گھنٹے تک روبوٹ کتوں کو شہر کے عوامی مقامات پر گھمانا ہوگا جب کہ اس کام کا معاوضہ 20 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
اشتہار میں ملازمت کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تقریباً 33 پاؤنڈ وزنی آلات کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ اگر دورانِ سیر کوئی روبوٹ کتا خراب ہوجاتا ہے تو اسے اٹھا کر کمپنی کے پتے پر واپس لے جانا بھی ملازمت کا حصہ ہوگا۔
کمپنی کا دفتر سان فرانسسکو کے ڈاگ پیچ محلے میں واقع ہے جہاں سے روبوٹ کتوں کو سیر کے لیے لے جایا جائے گا۔
ڈائمینشنل کے بانی اسٹیش پومیچٹر کے مطابق کمپنی ایک اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم تیار کر رہی ہے جس کے ذریعے روبوٹس کو جسمانی مشقت والے کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تجربات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس روبوٹس کو کنٹرول کرنے میں انسانی آپریٹرز کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوئے۔ اسی وجہ سے کمپنی نے روبوٹ کتوں کو انسانی مدد سے چلانے اور سیر کرانے کا تجربہ شروع کیا تاکہ روبوٹس کے کنٹرول اور کارکردگی سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
پومیچٹر نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تجربات سے ظاہر ہوا کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اب بھی ہارڈویئر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور روبوٹس کو عملی طور پر چلانے کے لیے انسانی مدد کی ضرورت برقرار ہے۔
کمپنی کے مطابق روبوٹ کتے چین کی کمپنی یونٹری سے خریدے گئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 2 ہزار ڈالر ہے۔ ان روبوٹس کو ڈائمینشنل کے تیار کردہ آپریٹنگ سسٹم کی آزمائش اور مستقبل میں جسمانی مشقت والے کاموں کے لیے روبوٹس کی صلاحیتیں بہتر بنانے کی غرض سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں متعدد کمپنیاں روبوٹس کو حقیقی دنیا کے کاموں کے قابل بنانے کے لیے تحقیق کر رہی ہیں۔ ڈائمینشنل کا یہ تجربہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ روبوٹس کو عملی ماحول میں مؤثر انداز میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے انسانی نگرانی، تجربات اور حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی اہمیت برقرار ہے۔
