وزیرریلوے اعظم سواتی کا کہنا ہےکہ جدید دور میں ریلوے کو پرانے آلات سے چلایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلویز کے ہسپتالوں کی توسیع، بحالی ، اپ گریڈیشن کے حوالے سے روڈ شو کا انعقاد کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی فیصل سلطان تقریب میں شریک ہوئے۔
اس مو قع پر وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریلوے میں بہت سی قیمتی پراپرٹی موجود ہے، ہم اس وقت ٹرینیں چلا لیں تو بڑی بات ہو گی۔
انہوں نے کہاکہ ہم ریلوے کے ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں ، جدید دور میں ریلوے کو پرانے آلات سے چلایا جا رہا ہے ، ہمیں کل سمن اچانک آ گئے ہیں، جتنے سرمایہ کار آئے ہیں واضح کر دوں کہ شفافیت کو یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ گارنٹی دیتا ہوں کہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے، جب سے ریلوے کا وزیر بنا وزیراعظم کے دئیے ہوئے ٹاسک پر کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہاکہ ہیلتھ کا نہیں پتا کس طرح پروموٹ کیا جاتا ہے، ریلوے کے ہسپتال دیکھ کر رونا آگیا تھا۔
واضح رہےکہ ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے افراد کل سے ٹرین پر سفر نہیں کر سکیں گے۔
ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ریلوے اسٹیشنز پر جگہ جگہ ویکسین لگوانے کے حوالے سے تشہیر بورڈ لگوا دیے ہیں۔
ترجمان ریلوے کے مطابق ٹکٹ خریدنے والوں سے ویکسین کا سرٹیفکیٹ یا مسیج طلب کیا جائے گا ، ویکسین کی کم از کم ایک بھی ڈوز نہ لگوانے والوں کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ، دوران سفر بھی ویکسین سرٹیفکیٹ طلب کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان ریلوے نے کہا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والے ٹرین سے ڈی پورٹ بھی کیے جا سکتے ہیں ، تمام ٹرینیں کورونا ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے 70 فیصد آکو پینسی کے ساتھ چلتی رہیں گی ، کورونا ویکسین لگوانے سے متعلق عوام کی آگاہی کے لیے پاکستان ریلوے نے اسٹیشنز کی حدود میں پوسٹرز اور بینرز آویزاں کر دئیے ہیں۔
ترجمان ریلوے کا اس حوالے سے مزید کہنا ہےکہ 15 اکتوبر تک مکمل ڈوز ٹرین اسٹاف اور اسٹیشن حدود میں تمام عملے کو لگوانا ضروری ہو گا ، مکمل ڈوز لگوانے والے مسافروں کو سفر کرنے کے اجازت ہوگی۔
