فرانس میں دو 16 سالہ لڑکوں نے ایک جوان لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا اور ویڈیو ٹوئٹر پر اپلوڈ کردی جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ دونوں لڑکوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
فرانسیسی حکومت نے مبینہ ویڈیو کو ٹوئٹر سے ہٹوایا اور لوگوں سے درخواست کی کے ویڈیو کو شئیر نہ کیا جائے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی دونوں لڑکوں کی شناخت کر لی گئی اور پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے لڑکوں پر ریپ اور سائبر کرائم کے چارجز لگاۓ ہیں ۔
فرانس کے ایک حکومتی وزیر نے کہا ہے کہ “سوشل میڈیا ویب سائٹس کو غیر قانونی مواد کی تشہیر کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے چاہیے”۔ ان کا مزید کہنا تھاAI کہ “سوشل میڈیا ویب سائٹس غیر اخلاقی مواد کی تشہیر کی روک تھام کے لیئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہیں۔” جیسے ہی مجھے اس ویڈیو کے بارے میں پتا چلا تو میں نے ٹوئٹر سے رابطہ کیا اور ویڈیو کو ڈیلیٹ کروای- باوجود اس کے واقعے کی تصاویر ابھی بھی سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “فرانسیسی حکومت نے اس طرح کے مواد کو شئیر کرنے پر سزاوں کی تجویز بھی دی ہے”
ٹوئٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ” غیر اخلاقی مواد کی تشہیر ہمارے پلیٹ فارم کے قوانین کے منافی ہے”۔




















