سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیرآباد واقعے میں نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری سے طاقتور لوگ شامل ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رجیم چینج کے بعد نامور ڈاکوؤں کو ملک پر مسلط کیا گیا اور مجھے معلوم ہے کہ اس رجیم چینج میں کون کون شامل ہے جب کہ عوام جب کہ عوام اس تبدیلی کے بعد پہلی بار سڑکوں پر آئی، رجیم چینج کے ماسٹر مائنڈ کو معلوم نہیں تھا قوم سڑکوں پر نکل آئے گی۔
عمران خان نے کہا کہ مجھے راستے سے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا گیا، ضمنی انتخابات کے بعد مجھے قتل کرنے کا پلان تھا اور پھر واقعے کی سلمان تاثیر کی طرح رنگ دیا جانا تھا اور اس بات کی اطلاع ایجنسیز کے کچھ لوگوں نے مجھے پہلے ہی دے دی تھی، ایجنسیز نے پیغام دیا کہ قتل کی سازش بنائی جارہی ہے۔
شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ اکیلے یہ سب نہیں کروا سکتے تھے، انکے پیچھے وہ لوگ ہیں جن کو ہم ملک کا محافظ سمجھتے ہیں، عمران خان pic.twitter.com/zYjPOwf1Z1
— PTI (@PTIofficial) January 5, 2023
انہوں نے کہا کہ وزیرآباد میں ملزم نوید نے پستول سے ریپڈ فائر کیا، ملزم نوید تربیت یافتہ ہے، اس دوران دو قسم کا اسلحہ چلنے کی آوازیں آئیں، اگر ملزم نوید اکیلے کا نہ کہتا تو سارے گینگ کا پتہ چل جاتا، پولیس نے ملزم کا اعترافی بیان اُن رپورٹرز اور صحافیوں کو دیا جو پی ٹی آئی مخالف ہیں جب کہ اس ویڈیو کو شام 6 بجکر 1 منٹ سے لیکر 6 بجکر 4 منٹ تک پی ٹی آئی مخالف صحافیوں اور چینلز نے شیئر کیا۔
یہ بھی پڑھیں؛ نالائق اور نااہل حکومت کی ناکامیوں نے پاکستان کی مشکلات بڑھا دی ہیں، عمران خان
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں اپنے اوپر فائرنگ کی ایف آئی آر تک درج نہیں کرواسکا ، جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیرآباد کے مقام پر مختلف ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی جب کہ ہمارے سیکیورٹی گارڈز نے ایک گولی بھی نہیں چلائی جس کا فرانزک بھی کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ملزم نوید کے کال ڈیٹا ریکارڈ کے لیے وفاقی ادارے سے رابطہ کیا تو انہوں نے صاف انکار کردیا، میرے قتل کا منصوبہ ہمارے کارکن معظم کیوجہ سے ناکام ہوا، مجھے معلوم ہے وزیرآباد واقعے میں کون لوگ ملوث ہیں اور میں اُس وقت اداروں کے نام بتاؤں گا جب جے آئی ٹی ان افسران کو بلائے گی۔
عمران خان پر حملے کے ملزم کا ویڈیو بیان کیسے لیک ہوا، سی سی ٹی وی سامنے آگئی
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ میں سابق وزیراعظم اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہونے اور صوبے میں اپنی حکومت کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرواسکا تو قوم سوچ لے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرآباد واقعے میں نوازشریف، شہبازشریف اور آصف زرداری سے طاقتور لوگ شامل ہیں، بہت افسوس کے ساتھ کہتا ہوں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اپنے ملک اور قوم کا محافظ سمجھتے ہیں، ان کی وجہ سے ہی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور نہ ہی شفاف تفتیش ہوسکیں۔
