ملک بھر میں بجلی کی فراہمی صبح 7.30 بجے سے متاثر ہوئی جس سے متعدد شعبوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 11 گھنٹے گزرنے کے باوجود ملک بھر میں بجلی اب تک بحال نہ ہوسکی اور طویل بریک ڈاؤن کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نمازیوں کو مشکلات کا سامنا
ملک بھر میں بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے مساجد بھی نمازیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گھروں سمیت مساجد میں بھی پانی کی موٹریں بند ہونے سے مساجد میں وضو کے لئے پانی ختم ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں؛ بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، ملک بھر میں بجلی غائب
مساجد سے نمازیوں کو گھروں سے وضو کرکے آنے کے لئے کہا جارہا ہے تاہم گھروں میں بھی واٹر موٹرز کے لئے بجلی نہ ہونے سے پانی دستیاب نہیں۔
صنعتوں کو نقصان
بجلی کے بدترین بریک ڈاؤن سے صنعتیں بھی متاثر ہوئیں۔ ایک دن میں ٹیکسٹائل کے شعبے کو ڈیڑھ سے 70 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ اپٹما کے مطابق ٹیکسٹائل کی صنعت میں بجلی کی بندش سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
موبائل سروس متاثر
علاوہ ازیں ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بجلی بریک ڈاؤن کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کو خدمات جاری رکھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ مختلف علاقوں میں نیٹ ورک فیل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
موبائل نیٹ ورک تنصیبات بیک اپ پاور پر چلائی جا رہی ہیں تاہم نیٹ ورک طویل وقت تک بیک اپ پاور پر نہیں چل سکتا۔ نیٹ ورک چلانے کے لیے جنریٹرزکو ایندھن کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مریضوں کیلیے مشکلات
بجلی کے بریک ڈاؤن سے اسپتالوں کے امور متاثر متاثر ہوئے ہیں جب کہ مریضوں کو علاج معالجے کے حوالے سے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
وزیراعظم کا نوٹس
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم نے پاور بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملک میں بجلی کا اتنا بڑا بحران کس وجہ سے پیدا ہوا، آگاہ کیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
ادھر نیپرا نے بھی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی) سے ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔
واضح رہے کہ آج صبح تقریبا ساڑھے 7 بجے کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا تھا جب کہ وزیر توانائی نے رات 10 بجلی کی مکمل بحالی کا دعویٰ کیا ہے۔
