Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سعودی عرب، عراقی جڑواں بچوں کو علیحدہ کرنے کا آپریشن کامیاب

سعودی عرب میں عراق سے تعلق رکھنے والے جڑواں بچوں کے دھڑ کو کامیاب آپریشن کے ذریعے الگ کر دیا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق طبی اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے آج بتایا کہ عراقی جڑواں بچے علی اور عمر، جن کے جسم پیدائش کے وقت جڑے ہوئے تھے ریاض میں سعودی ڈاکٹروں نے الگ کر دیا ہے۔

سرجنوں کے ایک ماہر گروپ نے 12 جنوری کو کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں جڑواں بچوں کو الگ کیا، اور کہا ہے کہ دونوں بچے مستحکم حالت میں ہیں۔

Conjoined Iraqi twins in stable condition after major surgery in Saudi  Arabia | Al Arabiya English

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ جو کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے نگران جنرل بھی ہیں، نے عرب میڈیا کو بتایا دونوں بچوں کی تمام اہم علامات نارمل ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں بچوں کو ایک ٹیوب کے ذریعے کھانا کھلانا شروع کر دیا ہے اور وہ اپنے والدین کے ساتھ معمول کے مطابق بات چیت کر رہے ہیں۔

میڈیکل ٹیم کو لڑکوں کی صحت یابی سے متعلق کوئی تشویشناک علامات نظر نہیں آتی ہیں۔

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کا کہنا تھا کہ جڑواں بچوں کو اگلے دو دنوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے باقاعدہ پیڈیاٹرک وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔

Separation Surgery for Iraqi Conjoined Twins “Ali and Omer” Begins in  Riyadh The official Saudi Press Agency

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے تصدیق کی کہ لڑکوں کی جلد کے نیچے رطوبتوں کو دور کرنے کے لیے ڈالی جانے والی ٹیوبوں کے ساتھ ساتھ علی سے بائل نکالنے کے لیے لگائی جانے والی ٹیوبوں کو اگلے ہفتے میں ہٹا دیا جائے گا۔

طبی ماہرین کے مطابق جڑواں بچوں کے چار سے چھ ہفتوں تک ہسپتال میں رہنے کی توقع ہے۔ طبی ٹیم اس کے بعد فیصلہ کرے گی کہ آیا انہیں گھر پر علاج جاری رکھنے کے لیے چھٹی دی جا سکتی ہے۔

شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر مبنی اس آپریشن میں 11 گھنٹے لگے اور یہ چھ مراحل پر مشتمل تھا، جسے کنسلٹنٹس، ماہرین، نرسنگ اور تکنیکی عملے کی 27 رکنی ٹیم نے مکمل کیا۔

Saudi Arabia doctors successfully separate Iraqi | Roya News

جڑواں بچے پیدائش کے وقت سینے اور پیٹ کے نچلے حصے سے آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ان کا جگر، پت کی نالیوں اور آنتوں کا بھی اشتراک تھا۔

یہ طریقہ کار سعودی کنجوائنڈ ٹوئنز پروگرام کا 54 واں کامیاب علیحدگی کا کیس تھا، اور علی اور عمر عراقی جڑواں بچوں میں سے پانچویں سیٹ تھے جنہوں نے سرجری کروائی۔

الربیعہ نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا پروگرام کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں