این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے8 نئے کیسز رپورٹ کئے گئے ہیں تاہم کورونا کے باعث کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق این آئی ایچ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران2 ہزار358 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے مطابق کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 0.34 فیصد رہی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 8 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اس وقت ملک بھر میں کرونا سے متاثر 12 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ 19) کا خطرہ بدستور جاری ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ 19) کا خطرہ بدستور جاری ہے تاہم دنیا 2019 کے مقابلے میں جس وقت یہ وبا شروع ہوئی تھی اس کی بنسبت کلینیکل کیئر مینجمنٹ، ویکسین اور علاج کے حوالے سے موجودہ صورتحال بہترہے۔
’واضح پیش رفت کے باوجود کوویڈ 19 کا خطرہ برقرار ہے‘
تنظیم کے جنیوا ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بریئس نے کہا کہ دنیا 2019 کے مقابلے میں، جب وبا شروع ہوئی تھی، کلینیکل کیئر مینجمنٹ، ویکسین اور علاج کے حوالے سے بہتر صورتحال میں ہے اور گزشتہ سال بڑے پیمانے پر کووڈ-19 کیسز میں کمی آ ئی تھی گیبریئس نے کہا کہ کچھ مسائل کے باوجود دنیا بھر میں کویڈ-19 ویکسین کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔اس صورتِ حال اور واضح پیش رفت کے باوجود کوویڈ 19 کا خطرہ برقرار ہے۔
علاج کروانے، ٹیسٹ کروانے اور ویکسین لگوانے میں بڑی مشکلات اورعدم مساوات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،کوویڈ 19 صحت، معیشتوں اور عمومی طور پر معاشروں کے لیے ایک خطرناک وائرس بنا ہوا ہے اور ہر ہفتے تقریباً 10 ہزار افراد کووڈ کا شکار ہو کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں، اسپتالوں، اور خاص طور پر شمالی نصف کرہ کے معتدل علاقوں میں جہاں انفلوئنزا سمیت سانس کی بیماریاں عام ہیں اسپتالوں میں داخلے اور صحت کے نظام پر دباؤ موجود ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر نے اسپتال میں داخل ہونے، شدید بیماری اور موت سے بچنے کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئےکہا کہ ویکسین اور خوراک کی اہمیت کا کو اجاگر کرنا ذروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین میں بے پناہ آبادی اوران کی نقل و حرکت کی وجہ سے کیسز میں بہت اضافہ ہوا ہے لیکن وہ جامع ڈیٹا حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا ڈبلیو ایچ او اور دنیا کے لیے بہت مفید ہے۔ موجودہ صورتحال کا باقاعدہ، تیز رفتار اور مضبوط جائزہ لینے کے لیے تمام ممالک سے یہ ڈیٹا شئیر کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
