Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برطانیہ، لاکھوں محنت کشوں کی ہڑتال، ہزاروں اسکول اور ٹرانسپورٹ بند

برطانیہ میں آج لاکھوں محنت کشوں نے اجرت میں اضافے کے لیے ہڑتال کی، مظاہرین نے اسکول اور ٹرانسپورٹ بند کر دی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 5 لاکھ محنت کشوں نے اس ہڑتال میں حصہ لیا، گزشتہ 12 سال میں انگلینڈ میں یہ سب سے بڑی ہڑتال تھی جس میں ملک بھر کے تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند تھی۔

محنت کشوں کی اجرت میں اضافے کے لیے کام کرنے والی مزدور تنظیم ’ٹریڈ یونین کانگریس‘ نے اس ہڑتال کو سب سے بڑا دن قرار دیا ہے۔

Half a million strike in UK's largest walkout in 12 years | The Peninsula  Qatar

واضح رہے کہ یورپ کے مختلف ممالک میں سخت معاشی بحران اور مہنگائی کی وجہ سے ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

تازہ ترین ہڑتال فرانس میں بھی ہوئی تھی جس میں 1.27 ملین سے زیادہ ملازمین نے حصہ لیا تھا ، جن کا مطالبہ تھا کہ پنشن میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سنک نے مزدور تنظیم کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے بہت زیادہ قرار دیا  اور خبردار کیا ہے کہ تنخواہوں میں بڑا اضافہ مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دے گا۔

Photos: Half a million strike in UK's largest walkout in 12 years |  News-photos – Gulf News

لیکن یونینوں نے ارب پتی وزیراعظم سنک پر الزام لگایا ہے کہ وہ عام محنت کش لوگوں کو درپیش چیلنجوں سے دور ہے جو کم تنخواہ، غیر محفوظ کام اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے اپنا گزارہ پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

آج ہونے والی ہڑتال میں ٹیچرز اور ٹرین ڈرائیور کام کرنے والے تازہ ترین گروپوں میں شامل تھے، ساتھ ہی ساتھ برطانیہ کی ہوائی اور بندرگاہوں پر سرحدی فورس کے ملازمین بھی شامل تھے۔

February 1 strikes: Unions coordinate for mass walkout - The Big Issue

برطانیہ میں گزشتہ کئی مہینوں سے ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں پوسٹل سٹاف، وکلاء، نرسیں اور ریٹیل سیکٹر کے ملازمین شامل ہیں، کیونکہ برطانیہ کی افراط زر 11 فیصد سے زیادہ ہو گئی، جو 40 سال سے زیادہ کی بلند ترین سطح ہے۔

جاب سینٹر کے کارکن اور یونین کے نمائندے جس نے اپنا نام نہ بتانے کو ترجیح دی، کہا کہ کارکنوں کے پاس بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ ہڑتال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

لندن کے کنگز کراس ریلوے اسٹیشن پر، 50 سالہ چیریٹی ورکر، کیٹ لیوس نے کہا کہ اس کی ٹرین کے تاخیر سے آنے کے باوجود وہ ہڑتال کرنے والوں سے ہمدردی رکھتی ہیں۔

Strikes could bring UK railway to a standstill as truce ends | CNN Business

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مسافروں کا ایک اور بڑا مرکز لندن برج اسٹیشن ہڑتال کے باعث مکمل طور پر بند تھا۔

آج برطانیہ میں ہزاروں اسکول بند رہنے کے بعد وزیر تعلیم گیلین کیگن نے ایک ریڈیو کو بتایا کہ وہ مایوس ہیں کہ اساتذہ نے واک آؤٹ کر دیا ہے۔

وزیر اعظم سنک نے بدھ کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت نے اساتذہ کو 30 سالوں میں سب سے زیادہ تنخواہوں میں اضافہ دیا ہے جس میں نئے قابل اساتذہ کے لیے نو فیصد بھی شامل ہے۔

Teachers' strike in Leeds: Live as thousands take to the streets and schools  close - Leeds Live

“مزدور تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ اگلے ہفتے ہمارے ساتھ پیرامیڈیکس ہیں، اور نرسیں ہیں، پھر فائر فائٹرز ہوں گے، انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یونینیں گرمیوں میں ہڑتال کے لیے بھی تیار ہیں۔

انگلینڈ کے دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے مطابق تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہڑتالوں کی وجہ سے گزشتہ سال جون سے نومبر تک 1.6 ملین کام کے دن ضائع ہو گئے تھے، جو تین دہائیوں سے زیادہ میں چھ ماہ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

او این ایس کے ترجمان نے مزید کہا صرف نومبر میں واک آؤٹ کی وجہ سے کل 467,000 کام کے گھنٹے ضائع ہوئے، جو 2011 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔

متعلقہ خبریں