Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زلزلے نے ترکیہ کو 3 فٹ تک دھکیل دیا، ماہرین کا دعویٰ

ترکیہ  میں آنے والے خوفناک زلزلے کی ہولناکیاں ابھی جاری ہیں اس دوران ماہرین کے دعوے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کو ترکیہ میں آنے والے طاقتور زلزلوں نے اس پر بیٹھی ٹیکٹونک پلیٹوں کو تین فٹ تک سرکا  دیا ہے۔

اطالوی سیسمولوجسٹ پروفیسر کارلو ڈوگلیونی نے ایک مقامی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ اس کے نتیجے میں ترکی مغرب کی طرف شام کے مقابلے میں 3 فٹ  تک پھسل گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس زلزلے میں 16 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جس سےترکیہ  اور شام دونوں میں کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دونوں ممالک میں پیر کے واقعات کے بعد متعدد آفٹر شاکس آتے رہے، جس نے لوگوں کو مزید خوفزدہ کردیا۔

طاقتور زلزلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈوگلیونی نے اٹلی کے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ایک قسم کی خرابی پیدا ہوئی جسے ماہرین زلزلہ نے “اتالی ٹرانسکرنٹ” کہا ہے۔

پروفیسر ڈوگلیونی کے مطابق دوسرے لفظوں میں ترکیہ، شام کے مقابلے میں پانچ سے چھ میٹر تک اپنی جگہ سے کھسک گیا ہے۔

اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس اینڈ وولکینولوجی (انگ وی) کے صدر نے مزید کہا کہ یہ سب ابتدائی اعداد و شمار پر مبنی ہے اور آنے والے دنوں میں سیٹلائٹ سے مزید درست معلومات دستیاب ہوں گی۔

زلزلے سے متاثرہ علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈوگلیونی نے کہا، “بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ میں 190 کلومیٹر لمبا اور 25 کلو میٹر چوڑا علاقہ شامل تھا، جس نے زمین کو بری طرح سے ہلا دیا.

پروفیسر ڈوگلیونی کا کہنا تھا کہ آفٹر شاکس نے ایک ایسا سلسلہ پیدا کیا جو نو گھنٹے کے فاصلے پر دو انتہائی شدید چوٹیوں تک پہنچ گیا، حقیقت یہ ہے کہ زمین مسلسل لرزتی رہی جس کی وجہ سے ترکیہ اپنی اصل جگہ سے 3 فٹ کھسک گیا ہے۔

Turkey and Syria earthquake live: Almost 8,000 killed as aid struggles to reach Idlib

ایک ریسکیو ریسپانس ماہر نے آج بتایا کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے کے ملبے میں دبے زندہ بچ جانے والوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے، کیونکہ تلاش کی کوششیں 72 گھنٹے کے اہم نشان کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں آفات اور صحت کے پروفیسر ایلان کیلمین نے کہا کہ زلزلے سے بچ جانے والے 90 فیصد سے زیادہ افراد کو پہلے تین دنوں میں بچا لیا جاتا ہے۔

پروفیسر ایلان کیلمین نے کہا کہ عام طور پر زلزلے لوگوں کو نہیں مارتے بنیادی ڈھانچے کے گرنے سے لوگ مارے جاتے ہیں۔

پروفیسر ایلان کیلمین نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کے لیے سب سے اہم عنصر منہدم عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے لوگوں کو طبی امداد پہنچانی ہے اس سے پہلے کہ ان کے جسم ناکام ہو جائیں یا ان کا خون بہہ جائے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version