Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ترکیہ میں تعمیراتی کمپنیوں کے مالکان کے خلاف گھیرا تنگ

ترکیہ میں ہولناک زلزلے کے باعث بیشتر عمارتیں منہدم ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق ترکیہ حکومت نے زلزلے سے گرنے والی عمارتوں کی تعمیراتی کمپنیوں کے مالکان کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ بلڈنگ سٹینڈرڈ کوڈ نہ اپنانے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

ترکیہ میں ہولناک زلزلے سے وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد 170 وکلاء کے پینل نے تعمیراتی کمپنیوں کے خلاف ایک مشترکہ شکایت درج کروائی.

اس شکایت میں کہا گیا ہے کہ  تعمیرات میں کنسٹرکشن کمپنیوں نے اسٹینڈرڈ بلڈنگ کوڈ نہیں اپنائے جس کی وجہ سے زلزلے میں لگ بھگ 6400 عمارتیں زمین بوس ہو گئیں جس سے ملک کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

شکایت پر فوری عمل کرتے ہوئے حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور متعلقہ کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالکان کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق کنسٹرکشن کمپنیوں کے 20 کے قریب مالکان گرفتار کر لئے گئے ہیں اور 50 کے قریب مالکان کی گرفتاری کا عمل جاری ہے۔

ترکیہ حکومت نے متعلقہ مالکان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈال دیا ہے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔

  واضح رہے کہ 199 میں زلزلے سے تباہی کے بعد ترکیہ میں زلزلہ پروف بلڈنگ قوانین متعارف کروائے گئے تھے تاکہ زلزلہ جیسی آفت میں نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کنسٹرکشن کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ ساتھ متعلقہ بلڈنگ کو پاس کرنے والوں کے بھی فوری گرفتاری کے امکانات ہیں۔

زلزلہ سے ہلاکتوں کے ذمہ دار افراد کو ہر صورت میں قانون و انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

ترکیہ کے نائب صدر فوات اوکتے کا کہنا ہے کہ 131 مشتبہ افراد کی شناخت کی گئی ہے جو کچھ عمارتوں کے گرنے کے ذمہ دار ہیں۔

ماحولیات کے وزیر مرات کورم نے کہا کہ زلزلے کے باعث 170,000 سے زیادہ عمارتوں کے جائزے کی بنیاد پر، پورے خطے میں 24,921 ڈھانچے منہدم ہوئے یا انہیں بھاری نقصان پہنچا۔

یاد رہے کہ شام اور ترکیہ کے کچھ حصوں کو پہنچنے والی تباہی کے چھ دن بعد بھی امدادی کارکن ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 29,000 سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version