ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر امدادی کارروائیاں آج اتوار کی شام کو ختم ہو جائیں گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکیہ کے اے ایف اے ڈی کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور شام میں اس ماہ کے آغاز میں آنے والے ہولناک اور تباہ کن زلزلے کے تقریباً دو ہفتے بعد بیشتر صوبوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ختم ہو گئی ہیں۔
اے ایف اے ڈی کے سربراہ یونس سیزر نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ “زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 40,642 ہو گئی ہے اور ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش اور بچاؤ کا کام بیشتر صوبوں میں ختم ہو گیا ہے۔
یونس سیزر نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم کل رات تک تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں ختم کر دیں گے۔
واضح رہے کہ 6 فروری کو ترکیہ کے جنوب مشرقی اور ہمسایہ ملک شام میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 45,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی اربوں ڈالر کی اقتصادی لاگت متوقع ہے۔
اے ایف اے ڈی کے سربراہ یونس سیزر کا کہنا تھا کہ ہم شاید تاریخ کی سب سے بڑی تباہی کے سامنے ہیں، زلزلوں اور آفٹر شاکس سے ہونے والا نقصان غیر معمولی ہے جو صرف متاثرہ 11 صوبوں تک ہی محدود نہیں تھا.
زلزلے کے باعث شام میں، 5,800 سے زیادہ اموات کی اطلاع ملی ہے جو کہ زیادہ تر شمال مغرب کے علاقے میں ہوئی ہیں جبکہ کئی دنوں سے اموات کے اعداد و شمار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے.
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ ترکیہ اور شام دونوں ممالک میں تقریباً 26 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔




















