پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ان کو ہی انتخابات کی تاریخ دینا ہو گی۔
پنجاب وخیبرپختونخوا انتخابات سے متعلق چیف جسٹس کے از خود نوٹس میں پی ٹی آئی کے وکیل سینیٹر علی ظفر نے سماعت ملتوی ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج 5 ممبر بینچ نے سماعت کی، ہمارا کہنا تھا کہ آئین کے تحت اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ان کو ہی انتخابات کی تاریخ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن کا رول یہ ہے کہ تاریخ کے حوالے سے گورنر یا صدر کی مدد کریں، پنجاب کے گورنر نے کیوں کہ اسمبلی تحلیل نہیں کی تھی سو یہ اختیار صدر پاکستان کے پاس تھا-
علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایک بات توجہ طلب ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہی ہونا ہے، عدالت اب یہ دیکھ رہی ہے کہ تاریخ کس نے دینی ہے، اگر الیکشن کمیشن نے کرنا ہے اعلان تو بھی عدالت حکم دے سکتی ہے-
انہوں نے کہا کہ آج میرے دلائل مکمل ہو گئے اور کل باقی وکلا کو موقع ملے گا۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ چیف صاحب نے کہا ہے کہ کل طویل سماعت ہو گی، سب کو سنا جائے گا، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 90 دن میں انتخابات نہ کرائے جائیں-
انہوں نے کہا کہ میں حکومت سے کہوں گا کہ اس چیز پہ کھلواڑ نہ کریں، آج میں حیران ہوں کہ ججز کو کس طرح نشانہ بنایا گیا، زرداری صاحب نے پی پی کا بیڑہ غرق کر دیا، جب آپ پیسہ دبئی لے کر جاتے ہیں تب بھی سوچا کریں کہ کراچی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
