Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت سال 2022 میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سب سے بڑا مجرم قرار

ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق گزشتہ سال انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کرنے والے ممالک میں بھارت سرفہرست رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق ’کیپ اٹ آن‘ اور ’ایکسیز ناؤ‘ کی ایک نئی رپورٹ میں پتہ چلا ہے گزشتہ سال 35 ممالک نے انٹرنیٹ کا بلیک آؤٹ کیا تھا، جس میں بھارت کا پہلا نمبر ہے۔

رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ ریکارڈ تعداد میں ممالک نے 2022 میں انٹرنیٹ کی بندش کو نافذ کیا ہے جس کا انسانی زندگیوں پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔

بھارت نے سال 2022 میں کم از کم 84 مرتبہ انٹرنیٹ کی خدمات کو معطل کیا اور مسلسل پانچویں سال ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا مرتکب ہوا۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے لیے احتجاج، فعال تنازعات، امتحانات، انتخابات، امن و امان اور سیاسی عدم استحکام کو جواز بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کرنے والے 35 ممالک کی تعداد 2016 کے ڈیٹا سے زیادہ ہے۔

یوکرین کو بھی گزشتہ سال فروری میں حملے کے دوران روسی فوج کی طرف سے مسلط کردہ 22 انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ ایران نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران 18 مرتبہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا سہارا لیا۔

ایتھوپیا کے ٹگرے علاقے میں 2020 سے، اور 2021 کے بعد سے میانمار کے تمام علاقوں میں شٹ ڈاؤن سب سے طویل ریکارڈ کیا گیا جو دو سال سے زیادہ جاری رہا۔

سروے مہم کی مینجر فیلیسیا انتھونیو کا کہنا تھا دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں اور جمہوریتوں نے اپنے جبر کے ایجنڈوں کو ایندھن دینے کے لیے انٹرنیٹ سروسز کو معطل کیا۔

مینجر فیلیسیا انتھونیو نے کہا کہ محفوظ انٹرنیٹ تک رسائی سب کے لیے ہے، اور ہم انسانی حقوق پر ان حملوں کا اجتماعی خلاف ورزی کے ساتھ مقابلہ کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں