سیکریٹری پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل نہ ہوا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اراکین نے سوال کیا کہ بروقت پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو کتناجرمانہ ہو سکتا ہے؟
جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل نہ ہوا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالر کا جرمانہ ہو سکتا ہے تاہم امریکہ سے مطالبہ کیا ہے ایران سے گیس کے حصول پر پابندی پر نظرثانی کرے، امریکی سفیر کو بتایا کہ ہمیں اجازت دیں یا یہ رقم دیں کہ ہم جرمانہ ادا کرسکیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت خارجہ کو امریکی سفیر سے رابطے کی ہدایت کردی۔ نور عالم نے کہا کہ امریکہ ہمیں 18 ارب ڈالر کا ریلیف دے یا ہمیں اس معاہدے پر عملدرآمد کی اجازت دے۔
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ وزارت خارجہ امریکی سفیر کو بلا کر بتائے کہ پاکستان کو پاک ایران گیس پائپ لائن میں 18 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ 325 ارب روپے گیس انفرانسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مدمیں وصول کیے مگر خرچ 2 ارب کیے، 322 ارب روپے پڑے ہیں مگر پراجیکٹ نہیں چل رہے، اگر ہم ایران کا پراجیکٹ مکمل کرکے گیس نہیں لیتے تو پاکستان پر جرمانے ہوں گے۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ جی آئی ڈی سی کا 325 ارب وزارت خزانہ کے پاس ہے پیٹرولیم ڈویژن کو2.8 ارب ملا، ٹاپی منصوبے میں سیفٹی اور سکیورٹی کا ایشو ہے، افغانستان میں پائپ لائن بچھانے کے بعد سیفٹی اور سکیورٹی مسئلہ ہےسکیورٹی گارنٹی مانگی جاتی ہے۔
سیکرٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر امریکہ سے بھی بات کی ہے، اس میں ریلیف بھی مانگاہےاور بتایا ہے کہ اتنی بڑی پینلٹی نہیں دے سکتے، ایران سے گیس لینے پر پابندی ہے ہم وہ نہیں لے سکتے، روس کیساتھ بھی تین چار ماہ میں کافی اجلاس ہو چکے ہیں۔
