13 جماعتی حکومتی اتحاد نے اپنی کمزور پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے انتخابی میدان سے فرار ہونے کا نیا پلان بنالیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 13 جماعتی حکومتی اتحاد اس سوچ میں مصروف ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں ناکامی کی صورت میں کیا کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں صوبوں میں الیکشن کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے اہم مشورہ دیا تاہم پیپلزپارٹی نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا جب کہ مسلم لیگ (ن) نے مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کا وقت مانگ لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے الیکشن ملتوی کرانے کی کوششوں میں ناکامی کی صورت میں نیا پلان تجویر کردیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر 30 اپریل کے الیکشن ملتوی نہیں ہوتے تو الیکشن کا بائیکاٹ کردیا جائے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم سے مشکل فیصلے کرانے کے بعد الیکشن میں جھونکا جا رہا ہے، مہنگائی کی وجہ سے عمران خان کا بیانیہ عوام میں مقبول ہو چکا ہے اور عوام کو ریلیف دینے میں 6 ماہ لگیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 6 ماہ سے قبل الیکشن میں جانا سیاسی خودکشی ہوگی تاہم پاکستان پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمان کی تجویز یکسر مسترد کردی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلزپارٹی نے الیکشن میں جانے کو نہیں بلکہ نہ جانے کو سیاسی خودکشی قرار دے دیا۔ اس موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی پنجاب اور خیبرپختونخوا کا میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔
پیپلزپارٹی نے اگلے چند روز میں پنجاب اور خیبرپخونخوا کے ٹکٹس فائنل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے بائیکاٹ کے اثرات خطرناک ہوں گے جب کہ ن لیگ نے بھی مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کا وقت مانگ لیا۔
