امریکی حکام نے نیویارک میں مقیم ایک چینی پراپرٹی ٹائیکون پر اربوں ڈالر کے فراڈ کا الزام عائد کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے چینی بزنس مین گوئے وینگویے اور ان کے ایک کاروباری شراکت دار کن منگ ژا پر وائر، سیکیوریٹی اور بینک فراڈ کے علاوہ منی لانڈرنگ کا بھی الزام لگایا ہے۔
واضح رہے کہ گوئے وینگویے چینی حکومت کے ناقد اور وائٹ ہاؤس کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیفن بینن کے ساتھی ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ گوئے وینگویے کے مین ہٹن پینٹ ہاؤس اپارٹمنٹ میں انہیں گرفتار کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اچانک آگ لگ گئی۔
شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے بتایا کہ آگ پر قابو پالیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور وجہ ابھی تک تفتیش میں ہے۔
اس سے قبل ایک آن لائن پوسٹ میں چینی بزنس مین گوئے وینگویے نے کہا کہ انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔
بعد ازاں انہوں نے بدھ کو مین ہٹن کی ایک وفاقی عدالت میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی اور اسے بغیر ضمانت کے حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔
گوئے وینگویے کئی عرفی ناموں سے جاتے ہیں جن میں مائلز گو، مائلز کووک اور “برادر سیون” شامل ہیں۔ ان کا نام ہو وان کووک کے نام سے بدھ کو غیر سیل شدہ فرد جرم میں شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں : کشیدگی کے باوجود چین اور امریکہ کی تجارت ریکارڈ بلند سطح پر
کن منگ ژا اور گوئے وینگویے لگائی جانے والی فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے آن لائن صارفین سے 1 بلین ڈالرز بٹورے، صارفین کا خیال تھا کہ وہ میڈیا کے کاروبار اور ایک خصوصی رکنیت رکھنے والے کلب کو فنڈز دے رہے ہیں۔
گوئے وینگویے اور کن منگ ژا نے مبینہ طور پر ہمالیہ کوائن نامی کرپٹو کرنسی کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاروں سے لاکھوں کا فراڈ بھی کیا ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی آن لائن موجودگی کا فائدہ اٹھا کر اپنے منصوبوں کے لیے رقم اکٹھی کی، لیکن کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، فنڈز کو مبینہ طور پر گوئے وینگویے اور کن منگ ژا سے منسلک ذاتی کھاتوں میں منتقل کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹنرز نے یہ رقم نیو جرسی، لیمبورگینی، بگاٹی اور فراری اسپورٹس کاروں میں 50 ہزار مربع فٹ حویلی پر خرچ کی گئی اور تقریباً 1 ملین ڈالر مالیت کے چینی اور فارسی قالینوں پر خرچ کیا گیا۔
