سندھ حکومت نے منافع خوروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کی زیر صدارت قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری زراعت ، کمشنر کراچی، سیکریٹری انڈسٹریز سمیت دیگر نے شرکت کی جبکہ تمام ڈویژنل کمشنر وڈیو لینک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں منافع خوروں پر نئیں آرڈیننس کے تحت کارروائی کی جائے، نئیں آرڈیننس کے تحت جرمانہ، گرفتاری اور اشیاء کی سرکاری نرخوں پر نیلامی ہوگی۔
چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا تھا کہ جرمانہ کی حد 1 لاکھ روپے کی گئی ہے، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے یہ بھی کہا کہ دوکان کو 30 روز کے لئے سیل کر کے تمام اشیاء کی سرکاری نرخوں پر نیلامی کی جائے، کل سے محکمہ زراعت اور محکمہ لیبر کے افسران بھی ماہ رمضان میں ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کام کریں گے۔
چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے تمام ڈویژنل کمشنر کو روانہ کی بنیاد پر رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ 78 لاکھ گھرانوں کو آٹے کی مد میں سبسڈی کی منظوری دی گئی ہے، بچت بازاروں میں آٹا گھی چینی سمیت ضروری اشیاء کو یقینی بنایا جائے۔
