Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ، ایک سال میں کس جج کی سربراہی میں کتنے مقدمات نمٹائے گئے؟

سپریم کورٹ نے 2 فروری 2022 سے یکم فروری 2023 تک کا ڈیٹا جاری کردیا۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک سال میں کل 253 دن مقدمات کی سماعت کی گئی جس میں سے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے 243 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی جس میں چیف جسٹس پاکستان نے بطور بینچ سربراہ 8 ہزار 796 مقدمات سن کر نمٹائے جبکہ نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 183 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی۔

رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پانچ مرتبہ مختلف بینچز کا حصہ رہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور سربراہ بینچ 1323 مقدمات کو سن کر فیصلے دیئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران جسٹس سردار طارق مسعود نے 157 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی، ایک سال میں جسٹس سردار طارق مسعود ایک مرتبہ بینچ کا حصہ رہے اور جسٹس سردار طارق مسعود نے بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک سال میں 3126 مقدمات کے فیصلے دیئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ایک سال میں 236 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی اور وہ ایک سال میں گیارہ عدالتی بینچز کا حصہ رہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک سال میں 4 ہزار 664 مقدمات نمٹائے۔

رپورٹ کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 90 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی اور وہ 110 مرتبہ مختلف بینچز کا حصہ رہے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے 1431 مقدمات کے فیصلے کیے۔

جسٹس منیب اختر نے 9 مرتبہ بینچز کی سربراہی کی اور وہ 183 مرتبہ مختلف بینچز کا حصہ رہے جبکہ جسٹس منیب اختر نے کل 62 مقدمات سن کر فیصلے کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے 30 مرتبہ بینچز کی سربراہی کی اور وہ 167 مرتبہ مختلف بینچز کا حصہ رہے جبکہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے 287 مقدمات سن کر نمٹائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ایک سال میں 29 مرتبہ بینچ کی سربراہی کی اور وہ ایک سال میں 169 مرتبہ مختلف عدالتی بینچز کا حصہ رہے جبکہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ایک سال میں 222 مقدمات نمٹائے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مجموعی طور پر 22843 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ گزشتہ ایک سال میں 20 ہزار 707 نئے مقدمات سپریم کورٹ میں دائر ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2 فروری 2022 کو زیر التواء مقدمات کی تعداد 54706 تھی جبکہ یکم فروری 2023 کو مقدمات کی تعداد  52590 تک لائی گئی۔ دو فروری 2022 سے یکم فروری 2023 تک سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں 2116 مقدمات کی کمی ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پہلی مرتبہ مقدمات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی،2013  کے بعد ہر سال سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہوا جبکہ2022  میں پہلی مرتبہ مقدمات کی تعداد میں 1722 مقدمات کی کمی ہوئی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version