جنوبی کوریا کے وسطی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کے باعث سیلاب سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق بارشوں کے تیسرے دن لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور وسطی شمالی چنگ چونگ صوبے میں ایک بڑا ڈیم بھر گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مزید 14 افراد لاپتہ ہیں اور ہزاروں افراد اپنے گھروں کو خالی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
زیادہ تر ہلاکتیں شمالی گیونگ سانگ صوبے سے رپورٹ ہوئی ہیں، جو پہاڑی علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں جس سے مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
ہنگامی امداد فراہم کرنے والے ایک اہلکار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ شدید متاثرہ علاقوں میں تمام مکانات بہہ گئے ہیں۔
وزیر اعظم ہان ڈک سو نے فوج سے کہا ہے کہ وہ امدادی کارروائیوں میں مدد کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وسطی چنگ چونگ صوبے میں ایک زیر زمین سرنگ میں 19 کاریں ڈوب گئی ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
مختلف مقامی حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ انخلا کے احکامات سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یون ہاپ کے مطابق ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے کے قریب گوان ڈیم میں پانی بھرنا شروع ہوا جس کے بعد تقریبا 6400 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ ڈیم کے قریب کئی نشیبی گاؤں اور ان کو ملانے والی کئی سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، جس کی وجہ سے کچھ رہائشی اپنے گھروں میں پھنس گئے ہیں۔
ملک کے قومی ریل آپریٹر کوریل نے تمام سست ٹرینوں اور کچھ بلٹ ٹرینوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ دیگر بلٹ ٹرین خدمات میں خلل پڑے گا۔
جمعے کی رات دیر گئے نارتھ چنگ چیونگ میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پٹریوں پر مٹی اور ریت گرنے سے ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی۔
اس حادثے میں ایک انجنیئر زخمی ہوا تھا لیکن ٹرین اس وقت مسافروں کو لے کر نہیں جا رہی تھی۔
کوریا کے محکمہ موسمیات نے اگلے ہفتے بدھ تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس نے متنبہ کیا کہ موسمی حالات “سنگین” خطرے کا باعث بنتے ہیں۔
شدید بارشوں کی وجہ سے بھارت، چین اور جاپان سمیت کئی ممالک میں گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔
اگرچہ بہت سے عوامل سیلاب کا سبب بنتے ہیں، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے گرم ماحول انتہائی بارش وں کا زیادہ امکان پیدا کرتا ہے۔ یہ جتنا گرم ہوتا جائے گا، ماحول میں اتنی ہی زیادہ نمی برقرار رہ سکتی ہے۔
