جنوبی کوریا میں ایک انڈر پاس میں جمع سیلابی پانی نے 9 افراد کی جان لے لی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق امدادی کارکنوں کو اوسونگ انڈر پاس سے 9 لاشیں ملی ہیں جو کئی دنوں سے جاری موسلا دھار بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں امدادی کارکنوں نے اوسونگ انڈر پاس میں پھنسی ایک بس سے سات لاشیں نکال لی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی روز سے جاری موسلادھار بارشوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ایک بڑے ڈیم میں طغیانی آئی ہے۔

وسطی قصبے اوسونگ کے حکام نے اتوار کے روز یون ہاپ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 685 میٹر طویل انڈر پاس سے مزید 9 لاشیں برآمد کیں۔
شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سیو جیونگ ایل نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ غوطہ خوروں سمیت تقریبا 400 امدادی کارکن مرکزی شہر چیونگجو میں انڈر پاس کی تلاش کر رہے تھے، جہاں ہفتے کی شام کو ایک بس سمیت 15 گاڑیاں سیلاب کی زد میں آ گئیں۔
جائے وقوعہ سے لی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امدادی کارکن سرنگ کا احاطہ قائم کر رہے ہیں اور بھورے رنگ کے پانی کو سرنگ سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ غوطہ خوروں نے علاقے کے اندر اور باہر جانے کے لیے ربڑ کی کشتیوں کا استعمال کیا۔
چار لین والا انڈر پاس اس وقت زیر آب آ گیا جب تین دن کی موسلادھار بارش کے بعد قریبی میہو ندی کے کنارے منہدم ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلاب سرنگ سے اتنی تیزی سے بہہ گیا کہ لوگ بچ نہیں سکے۔ فائر حکام نے اندازہ لگایا کہ سرنگ دو یا تین منٹ میں پانی سے بھر گئی۔
جنوبی کوریا کے ایک اخبار کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں نے ہفتے کے روز سرنگ سے ایک لاش برآمد کی اور نو افراد کو بچا لیا جو سرنگ کے ارد گرد محافظ وں کی ریلوں سے چپک کر زندہ بچ گئے تھے۔
ریسکیو حکام کے مطابق بس اور 12 کاروں سمیت 15 گاڑیاں سرنگ میں پھنسی ہوئی تھیں اور ہفتے کے روز مجموعی طور پر 11 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی۔




















