Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات، سلامتی کونسل کے ارکان نے بھی سر جوڑ لیے

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کے خطرات پر باضابطہ بحث کا انعقاد کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے خبر کے مطابق دنیا بھر کی حکومتیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات کو کم کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

ماہرین کے خیال میں مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت رواں ماہ برطانیہ کے پاس ہے جو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے قواعد و ضوابط متعارف کروانے میں قائدانہ کردار ادا کرنی کا خواہاں ہے۔

نیو یارک میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی کریں گے۔

جون میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرز پر مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کی تشکیل کی حمایت کی تھی۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت سے خطرہ اپنی جگہ موجود ہے، لیکن پہلے ہی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پھیلنے والی غلط معلومات کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے اس حوالے سے ایک عالمی ضابطہ اخلاق بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے استعمال سے اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی جو دنیا نے کبھی دیکھی ہی نہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version