چین نے ایک ماہ تک غائب رہنے والے وزیر خارجہ چن گینگ کو برطرف کر کے ان کی جگہ وانگ یی کو وزیر خارجہ مقرر کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ اعلان چن گینگ کی آخری عوامی موجودگی کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کے پیش رو وانگ یی نے ان کی جگہ لی ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق چینی حکومت نے چن گینگ کو وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ ان کے پیش رو وانگ یی کو وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔
چین کی اعلی مقننہ نے وانگ یی کو وزیر خارجہ مقرر کرنے کے لئے ووٹ دیا، سرکاری نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ منگل کے روز ایک اجلاس طلب کیا اور چن گینگ کو وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
یہ اعلان وزیر خارجہ چن گینگ کی آخری عوامی پیشی کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
دسمبر میں وزیر خارجہ بنائے جانے والے 57 سالہ چن گینگ کو 25 جون کو روس، ویتنام اور سری لنکا کے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے دوران عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ میں چن کی آخری پیشی روسی نائب وزیر خارجہ آندرے روڈینکو کے ساتھ ملاقات تھی، جنہوں نے ماسکو کے اعلی فوجی قیادت کے خلاف ویگنر کرائے کے گروپ کی ناکام بغاوت کے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔
اس کے بعد چین نے 4 جولائی کو چین اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کے درمیان ہونے والے مذاکرات بغیر کسی وضاحت کے منسوخ کر دیے تھے۔
اس کے بعد چن گینگ نے امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین اور امریکی موسمیاتی ایلچی جان کیری کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت نہیں کی۔
بعد ازاں چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ چن گینگ صحت کی وجوہات کی بنا پر جکارتہ میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔
ان کی پراسرار غیر موجودگی نے ان قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے کہ چن گینگ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کی قیادت سے باہر ہو گئے ہیں۔
تیانجن سے تعلق رکھنے والے چن گینگ 1980 کی دہائی کے اواخر سے چینی حکومت میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور زیادہ تر خارجہ امور سے متعلق عہدوں پر کام کیا۔
چن کو چینی صدر شی جن پنگ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور سی سی پی کے اندر ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















