یورپی یونین نے تارکین وطن کے کشتی سانحے میں یونانی سرحدی گشتی ایجنسی کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے نگران ادارے نے یونان کے نزدیک تارکین وطن کے کشتی حادثے میں یونانی سرحدی گشتی ایجنسی فرنٹیکس کی مبینہ غفلت کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یونان میں بحری جہاز کے حادثے کے چند ہفتوں بعد، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے یورپی یونین نے تباہی کی تحقیقات کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
محتسب ایملی او ریلی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ تحقیقات کا مقصد 14 جون کو یونان کے ساحل پر سیکڑوں افراد کے ڈوبنے کے بعد بحیرہ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں فرنٹیکس کے کردار کو واضح کرنا ہے۔
یورپی محتسب کی جانب سے آزادانہ تحقیقات، جو یورپی یونین کے اداروں کی طرف سے ناقص انتظامیہ کے مشتبہ معاملات کو دیکھتا ہے او ریلی کی پہل پر شروع کیا گیا تھا تاکہ سانحے کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : یونان کشتی حادثے میں ملوث اہم سرغنہ گجرات سے گرفتار
یونان کا کہنا ہے کہ اس نے دو تحقیقات شروع کر دی ہیں: ایک مجرمانہ معاملہ مبینہ اسمگلروں کے بارے میں ہے جسے وہ اس سانحے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور دوسرا اس کے کوسٹ گارڈ کی کارروائیوں کے بارے میں۔
واضح رہے کہ ڈوبنے والی کشتی میں 750 افراد سوار تھے جنہیں لیبیا سے اغوا کیا گیا تھا جو بحیرہ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
جولائی کے اوائل میں یورپی یونین کے کمشنر یلوا جوہانسن کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کو بھیجے گئے یونانی اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تقریبا 100 افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ تقریبا 600 افراد ڈوب گئے تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















