میانمار کی معزول سویلین خاتون رہنما آنگ سان سوچی کو فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے۔
جیل ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سوچی کو پیر کے روز نی پی تو میں ایک سرکاری عمارت میں لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک سال قید تنہائی میں گزارا تھا۔
یہ 78 سالہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی 33 سال قید کی سزا کاٹ رہی ہے، جس کے بعد اسے فوج کے زیر انتظام بند کمرے میں چلائے جانے والے مقدمات میں قید کیا گیا تھا۔
دو سال سے زیادہ عرصے سے ان کی حالت کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔
فوج کی جانب سے ان کی جیل سے منتقلی کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن نظربندی کا اقدام حکام کی جانب سے ایک مثبت علامت ہو سکتا ہے، جنہیں ملک کے جمہوری طور پر منتخب رہنما کی رہائی کے لیے متعدد مطالبات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آنگ سان سوچی کے بیمار ہونے کی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں لیکن فوج نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔
اس ہفتے کے اوائل میں نی پی تو جیل کے ایک ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ ان کی صحت اچھی ہے۔
تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی رواں ماہ انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے سوچی سے ملاقات کی تھی تاہم انہوں نے مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فوج نے آنگ سان سوچی اور پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اسپیکر ٹی کھون میات کے درمیان ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔ تاہم فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
