گزشتہ پندرہ دنوں کے درمیان سمندری طوفان چین کے ساحلوں سے ٹکرا گیا ہے جس سے موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں چین سے ٹکرانے والا دوسرا سمندری طوفان ڈوکسوری شمال کی جانب بڑھے گا جہاں 10 صوبوں میں موسلا دھار بارش کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان میں سمندری طوفان ڈوکسوری نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں شدید بارشیں اور تیز ہواؤں کے جھونکے اٹھے ہیں جس سے بجلی کی لائنوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے، درخت اکھڑ گئے ہیں اور فیکٹریاں اور شاپنگ مالز بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 2016 میں آنے والے مہلک سمندری طوفان میرانتی کے بعد فوجیان میں آنے والے دوسرے طاقتور ترین طوفان نے اسکولوں، کاروباروں کو بند کرنے اور غیر ملکی تیل اور گیس کے شعبوں سے مزدوروں کو نکالنے پر مجبور کیا۔
چین کے محکمہ موسمیات (سی ایم اے) کے مطابق، ژیامین، کوانژو اور پوٹیان میں جمعہ کو 50 ملی میٹر (2.165 انچ) سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
خبر رساں ادارے نے زیامین کے ایک رہائشی کے حوالے سے بتایا کہ پورا ژیامین آج صبح کام پر نہیں گیا تھا۔
رہائشی کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر گاڑیاں نہیں ہیں، اور فیکٹریاں اور شاپنگ مال بند ہیں۔ لگتا ہے کہ میرانتی کے بعد لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 20 لاکھ آبادی والے شہر جن جیانگ میں ہواؤں کے باعث بجلی کی تاریں اکھڑ رہی ہیں جبکہ کوانژو میں بڑے پیمانے پر درخت اکھڑ گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبہ فوجیان کے جن جیانگ سٹی اور کوانژو کے کچھ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع ہے۔




















