توشہ خانہ کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل پرابتدائی دلائل مکمل کرلیے گئے جس کے بعد سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس دوسری عدالت منتقلی کی درخواست اورچیئرمین پی ٹی آئی کی ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرنے کی درخواست پر بھی سماعت کی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جی خواجہ صاحب، اب تو یہ کیس تین فورمز پر چل رہا ہے جس پروکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کا دفاع (342) کا بیان قلمبند کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے دفاع میں گواہوں کی فہرست عدالت کو دی۔
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے گواہوں کو پیش کرنے کیلئے ایک دن کا وقت مانگا، ہمارا حقِ دفاع ہی ختم کر دیا گیا اور حتمی دلائل کا کہا گیا، سمجھ نہیں آ رہی کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس چلانے کی جلدی کیا ہے، جج صاحب نے کہا کہ اگر آج حتمی دلائل نہ دیے تو فیصلہ محفوظ کر لوں گا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جج صاحب کرنا کیا چاہ رہے ہیں۔
خواجہ حارث نے دلائل دیے کہ جج کو معلوم ہے کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی یہ معاملہ زیرسماعت ہے، ہماری کیس منتقل کرنے کی درخواست صرف تعصب کی بنیاد پر نہیں تھی، جج صاحب نے وکلاء اور میرے متعلق بھی عجیب ریمارکس دیے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اب اگر یہ سب ججز سے متعلق کہا جائے گا تو وہ جواب میں کچھ تو کہے گا نا، بارعدلیہ کی نرسری ہے، میں بھی وہیں سے یہاں آیا ہوں۔ ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں ہے، اس میں خامیاں موجود ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ کیسز کے ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چلائے جائیں، ملزم کو مگر فیئر ٹرائل ضرورملنا چاہئے، میڈیا پر ایف آئی اے کی ایک رپورٹ آئی ہے، آپ کی کیس منتقلی کی درخواست جج کی مبینہ پوسٹوں کی وجہ سے تھی، میں نے ابھی ایف آئی اے رپورٹ دیکھی ہے وہ بھی ڈسٹربنگ سی ہی ہے، یہ اچھی بات نہیں کہ غلط طور پر جج سے متعلق سب کچھ کہا گیا۔
وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہی کچھ نہیں ہے، وہ پوسٹ اب ڈیلیٹ ہو گئی ہوگی، ایف آئی اے نے کہا کہ اب موجود نہیں ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے مکالمے میں کہا کہ اگر پوسٹ ڈیلیٹ ہو بھی گئی ہو تو وہ ٹریش میں مل جانی چاہئے، یہ بات کوئی اچھی نہیں لگی، آپ لوگ سینئر وکیل ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایف آئی اے نے فیس بک پوسٹوں کا فرانزک کیا ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اب دیکھنا یہی ہے کہ ایف آئی اے نے پوسٹوں کی موجودگی کو کس حد تک دیکھا، ہماری دوسری درخواست دائرہ اختیارسے متعلق ہے۔
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کی عدالت میں جانا تھا، ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی، ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہئے تھا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپکی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہئے تھا؟ جس پرخواجہ حارث نے جواب دیا کہ مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویزنے کہا کہ وکلاء جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے، شام میں جو بحث ہوتی ہے اسکا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے، شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے انکے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں، اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہونگے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قانونین بنانے چاہئیں، جس پرچیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہوگا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ زیرالتواء کیسز پر کسی فریق کو کوئی بات نہیں کرنی چاہئے، چیف جسٹس نےکہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بات کررہا ہوں کہ رات آٹھ سے بارہ بجے تک کیا چلتا ہے۔
چیف جسٹس عامرفاروق نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب آپ نے پچھلے سالوں میں کافی سیاسی کیسز کیے۔ آپ کو کبھی آٹھ بجے کسی چینل پر نہیں دیکھا۔ پرانے وقتوں میں تو کہتے تھے کہ ججز اخبارات بھی نہ پڑھیں۔
خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جج کا یہ کام نہیں کہ وہ سوچے کہ فیصلے سے عوام کیا سوچے گی، الیکشن کمیشن کی شکایت قانون کے مطابق درست طور پر دائر نہیں کی گئی، یہ شکایت براہ راست سیشن عدالت میں دائر نہیں ہوسکتی تھی، اس پرائیویٹ کمپلینٹ کو مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کیا جا سکتا تھا۔
چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ مجسٹریٹ نے ابتدائی طورپرکرنا کیا ہوتا ہے؟ اس میں منطق کیا ہے؟ وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ مجسٹریٹ نے دستاویزات کی سکروٹنی کرنی ہوتی ہے، میں بھی یہ سوچتا ہوں کہ منطق کیا ہے لیکن قانون کے مطابق یہی طریقہ کار ہے۔
توشہ خانہ کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل جس کے بعد عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا۔
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف اپیل پر آج ہی سماعت کر لی جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ میں اُس درخواست پر آج 3 بجے کے بعد سماعت کیلئے مقررکرلوں گا، آج ہماری ایک میٹنگ ہے، اس کے بعد سماعت کر لیں گے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے ہمیں ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا کہا ہے، انہوں نے کہا ہے پیش نہ ہوئے تو کیس کا فیصلہ محفوظ کرلوں گا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ یہاں رکیں اور چائے کا کپ پیئیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج صاحب کیس کا فیصلہ ہی نہ سنا دیں۔ چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ نہیں میرا خیال ہے آج تو فیصلہ نہیں سنائیں گے، اپنے جونیئر کو بھیج کر ٹرائل کورٹ کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل دے رہے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں۔ اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
