Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم نے خودساختہ جلاوطنی ختم کرنے سے انکار کر دیا

تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم تھاکسن شناوترا نے خودساختہ جلاوطنی کو ختم کر کے واپس وطن آنے سے انکار کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم تھاکسن شناوترا نے کہا ہے کہ وہ خود ساختہ جلاوطنی سے واپسی ملتوی کر رہے ہیں کیونکہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ جماعتوں کے مخالفین کی جیت کے بعد تھائی لینڈ سیاسی تعطل پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

2006 کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹائے جانے سے قبل دو انتخابات جیتنے والے 74 سالہ ارب پتی طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ وطن واپس آنا چاہتے ہیں لیکن ان پر متعدد مجرمانہ الزامات عائد ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سیاسی محرکات ہیں۔

ہفتہ کے روز سابق ٹیلی کام ٹائیکون تھاکسن نے کہا تھا کہ وہ میڈیکل اپائنٹمنٹ کی وجہ سے اپنی طے شدہ واپسی میں تاخیر کریں گے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں تھائی لینڈ کے لیے اپنی واپسی کی تاریخ دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنا چاہتا ہوں۔’

ان کی بیٹی، 36 سالہ پیتونگٹرن شناوترا، جو انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی فیو تھائی پارٹی کے وزیر اعظم کے امیدواروں میں سے ایک ہیں، نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کے والد 10 اگست کو آئیں گے۔

تھاکسن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں سنہ 2001 سے تھائی لینڈ کی سیاست پر چھائی ہوئی ہیں لیکن وہ فوجی بغاوت اور ایک عدالتی فیصلے میں دو وزرائے اعظم کھو چکی ہیں۔

تھاکسن کی واپسی پہلے سے ہی کشیدہ سیاسی صورتحال کو بھڑکانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مئی میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ پارلیمانی نشستیں جیتنے کے بعد فوج کی اکثریت والی سینیٹ نے موو فارورڈ پارٹی (ایم ایف پی) کے رہنما کو وزیر اعظم بننے سے روک دیا تھا جس کے بعد مملکت سیاسی تعطل کا شکار ہے۔

اس کے بعد سے فیو تھائی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پراپرٹی ٹائیکون سریتھا تھاویسن اس کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے وزیر اعظم کے انتخاب کی تاریخ 16 اگست کو آئینی عدالت کے فیصلے تک بڑھا دی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں