فلپائن نے چینی بحریہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فلپائنی کشتیوں پر واٹر کینن سے حملہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق فلپائن کے ساحلی محافظوں نے اپنے چینی ہم منصب پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اس کے بحری جہازوں پر واٹر کینن فائر کی اور انہیں متنازعہ بحیرہ جنوبی چین میں روک دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس کا بحری جہاز اسپرٹلی جزائر میں سے ایک پر تعینات فلپائنی فوجیوں کے لیے سامان لے جانے والی کشتیوں کی حفاظت کر رہا تھا۔
امریکہ نے بیجنگ کے خطرناک اقدامات کی مذمت کی اور اس واقعے کے لئے چینی سمندری ملیشیا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا۔
چین نے اس واقعے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ بیجنگ بحیرہ جنوبی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے جس میں اسپرٹلس بھی شامل ہے جس پر فلپائن بھی دعویٰ کرتا ہے۔
اس بحیرہ پر ملائشیا، ویتنام، برونائی اور تائیوان کی جانب سے بھی مسابقتی دعوے کیے جا رہے ہیں۔
فلپائن کے کوسٹ گارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ہفتے کے روز اس وقت پیش آیا جب اس کے جہاز اسپرٹلی جزائر میں سیکنڈ تھامس شول کی طرف جا رہے تھے۔
بیان میں چین کے اقدامات کو ‘حد سے زیادہ اور غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
دریں اثنا، امریکی محکمہ خارجہ نے “ہمارے فلپائن کے اتحادیوں” کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘پانی کی توپوں سے فائرنگ اور غیر محفوظ رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے پی آر سی (چین کے) بحری جہازوں نے فلپائن کی جانب سے بحری جہاز رانی کی آزادی کی قانونی مشق میں مداخلت کی اور فلپائن کے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت کو خطرے میں ڈال دیا۔’
چین بین الاقوامی ثالثی عدالت کے اس فیصلے کو نظر انداز کرتا ہے کہ تقریبا پورے بحیرہ جنوبی چین پر اس کا دعویٰ غلط ہے۔
اپریل میں پی سی جی کے ایک جہاز پر سوار برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک ٹیم کو پہلی بار چینی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بحیرہ جنوبی چین اب دنیا کے سب سے بڑے فلیش پوائنٹس میں سے ایک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان پانیوں تک رسائی ایک ایسے وقت میں تائیوان کے دفاع کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے جب خود مختار جزیرے پر چین کے دعوے شدت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ آبی گزرگاہیں ہر سال 5 ٹریلین ڈالر کی عالمی تجارت کی میزبانی بھی کرتی ہیں، جس سے ان خدشات میں اضافہ ہوتا ہے کہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات تجارت کو محدود کر سکتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















