اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے فلسطین کے تعلیمی پروگرام اور عرب شہریوں کے فنڈز معطل کردیے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں نسل پرستی اور جرائم کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے عرب شہروں کے لیے فنڈز معطل کردیے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی قوم پرست مذہبی حکومت کے اہم ممبر سمجھے جانے والے سموٹریچ نے کہا کہ پچھلی حکومت کی جانب سے بجٹ میں عرب لوکل کونسل کے لیے مختص کردہ فنڈز سیاسوں بنیادوں پر فراہم کیے گئے تھے جو جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے ہاتھوں لگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیحات پچھلی حکومت سے بالکل مختلف ہیں اور ہمیں اس پر معذرت خوانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اس معاملے کو سب سے پہلے اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر کین نے اس وقت رپورٹ کیا جب وزیر داخلہ موشے اربیل کی جانب سے وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ کو ایک خط لکھا گیا جس میں انہوں نے 200 ملین شیکلز (54 ملین ڈالر) جاری کرنے کا مطالبہ کیا جو انتظامی معاملات اور اقتصادی ترقی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔
متحدہ عرب کے سربراہ قانون ساز منصور عباس نے سموٹریچ پر نسل پرستی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عرب شہری ان فنڈز کے حقدار ہیں جس کا بنیادی مقصد عرب اور یہیودی برادریوں کے درمیان گیپ کو کم کرنا تھا۔




















