جرمنی کے مختلف حصوں میں ہونے والے شدید بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی خبروں کے مطابق جرمنی کے مختلف حصوں میں طوفان کے باعث سڑکیں پانی سے بھر گئی ہیں اور درخت گر گئے جبکہ فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے درجنوں پرازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔
بدھ کی شام کو آنے والے اس طوفان نے جنوب مغربی جرمنی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں ایک گھنٹے میں بھاری مقدار میں پانی بہہ گیا اور مبینہ طور پر 25 ہزار سے زائد بار آسمانی بجلی گر گئی۔
جمعرات کے روز فرینکفرٹ ہوائی اڈے نے کہا کہ اسے 90 پروازوں کو منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا جبکہ مزید 23 کو دیگر ہوائی اڈوں پر اترنے کے لئے دوبارہ روٹ کیا گیا۔
کچھ مسافر کیمپ کے بستروں پر سوئے جبکہ بہت سے لوگوں نے ہوائی اڈے کے ہوٹل میں رات گزاری۔
ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آج صورتحال شاید دوبارہ مستحکم ہو جائے گی۔ یہاں اب بھی ایسے مسافر موجود ہیں جنہیں نئی پروازوں کے لیے بکنگ کرانے کی ضرورت ہے۔
جرمنی کے مالیاتی دارالحکومت میں فائر سروس کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک طوفان سے متعلق 500 سے زیادہ آپریشن شروع کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارتوں میں پانی بھرنے اور 17 درخت گرنے کے 350 سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ آف ڈیوٹی اہلکاروں کو مدد کے لئے بلایا گیا تھا۔
طوفان نے دیگر علاقوں کو بھی متاثر کیا، جس میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے علاقے گیلسنکرچن بھی شامل ہیں۔
فائر سروس کا کہنا ہے کہ سڑکوں، تہہ خانوں اور نشیبی رہائشی علاقوں میں تیزی سے پانی بھر گیا جبکہ درخت گر گئے جس سے گاڑیاں متاثر ہوئیں۔
ایمرجنسی سروس کے کارکنوں نے کئی ہائی وے انڈر پاسز پر لوگوں کو گاڑیوں سے بچایا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں
