کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج آپس میں لڑ لڑ کر مرنے لگے، کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک اورلیڈر افغانستان میں مارا گیا۔
کبھی روپے پیسوں پرجھگڑا تو کبھی اختیارات کی جنگ، کالعدم ٹی ٹی پی کے دھڑے باہم دست و گریباں ہوگئے۔
تحریک طالبان پاکستان نور ولی محسود گروپ نے خوست میں گل بہادر گروپ پر حملے کے بعد جماعت الاحرار پر وارکردیا۔
نور ولی محسود نے اسد آفریدی کو قلعہ سیف اللہ حملے بارے ٹی ٹی پی کے راز افشاء کرنے پر ولایت کے منصب سے فوری ہٹا دیا تھا۔
مختلف بیانات جاری کرنے پر نورولی محسود نے اسد آفریدی کو راستے سے ہٹانے کیلئے اس کے سر کی قیمت مقرر کی۔
کل رات محسود گروپ کے کارندوں نے اسد آفریدی کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں محسود گروپ کے حملے میں اسد آفریدی کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسود گروپ اور اسد آفریدی گروپ میں جھڑپ کے دوران متعدد دہشگرد شدید زخمی بھی ہوئے، جماعت الاحرار کے کمانڈرز نے سربکف مہمند اور عمر خالد خراسانی کے قتل کا ذمے دار بھی نورولی محسود کو قرار دیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















