لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی حتمی کارروائی سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد وحید خان نے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی کارروائیاں کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کی آغاز پر چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل سمیر کھوسہ نے دلائل دیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بیان بازی کرنے کےالزام میں چیئرمین تحرہک انصاف کو طلبی کےنوٹس جاری ہوئے۔
درخواستگزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، الیکشن کمیشن کا ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا ْاقدام ماورائے آئین وقانون تھا۔
وکیل نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن پیش ہونے پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی۔ الیکشن کمیشن ادارہ ہے عدالتی اختیار استعمال نہیں کرسکتا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت توہین الیکشن کمیشن سے متعلقہ تمام اقدامات اور کاروائیاں کالعدم قرار دے۔
عدالت نے درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کیس میں اپنی کارروائی جاری رکھے، عدالت عالیہ کے فیصلے تک الیکشن کمیشن توہین عدالت کیس کا حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔
جسٹس محمد وحید خان نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کیا کہ شریک ملزم کی معذرت قبول کرکے معافی دے دی گئی۔ دو میں سے ایک ملزم کو شوکاز نوٹس جاری کیوں کیے۔ یہ تو امتیازی سلوک واضح نظر آرہا ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف حتمی کارروائی سے روک دیا اور معاملہ مزید سماعت کے لئے فل بنچ کو بھجوانے کی سفارش کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔
